قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں کوئی آیت (نشانی) ہوتی ہے۔اہل عقل کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں سے سبق لے۔ نشانیوں سے سبق لینا یہی تزکیہ یا شخصیت کی تعمیر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ مثلا آپ ایک باغ میں ہیں، وہاں شہد کی ایک مکھی آتی ہے۔ وہ پھولوں پر بیٹھتی ہے۔ وہ خاموشی کے ساتھ پھولوں کا نکٹر (nectar) لیتی ہے اور پھر وہ اڑجاتی ہے۔
اس واقعے میں بہت بڑی نشانی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ نشانی خود پھول کا جزء ہے۔ یعنی جس طرح پھول کے اندر رنگ اور مہک ہے، اسی طرح اس کے اندر نشانی بھی اس کے ایک لازمی حصے کے طور پر موجود ہے۔ یہ نشانی انسان کے ذہن کے اندر ہوتی ہے ،نہ کہ پھول کے اندر۔ آپ کے اندر اگر سوچنےکی صلاحیت ہے تو آپ سوچ کر اس نشانی کو اخذ کریں گے۔ اور اگر آپ کے اند رسوچنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ نشانی بھی آپ کے لیے ایک غیر موجود چیز بن جائے گی۔
اگر آپ کا ذہن ایک تیار ذہن (prepared mind) ہو۔ اور مکھی کو دیکھ کر آپ سوچنا شروع کردیں تو آپ مکھی کے حوالے سے اپنے لیےایک عظیم حقیقت کو دریافت کریں گے۔ وہ یہ کہ جس طرح پھولوں میں نکٹر ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کی چیزوں میں نصیحت کا کوئی نہ کوئی پہلو چھپا ہوتا ہے۔ نصیحت کا یہ پہلو مادی اعتبار سے چیزوں کا جزء نہیں ہوتا۔ لیکن آپ اپنے عقل کو استعمال کرکے اس کو دریافت کرسکتے ہیں۔ مثلا شہد کی مکھی جب باغ میں آئی تو اس وقت باغ میں بہت سی چیزیں موجود تھیں— گھاس ، مٹی، لکڑی ، کانٹا ، کیڑے مکوڑے ،وغیرہ۔ لیکن مکھی نے ان تمام چیزوں کو یکسر نظر انداز کیا۔ اس نے صرف ایک کام کیا۔ وہ تھا نکٹر کو لینا اور پھروہاں سے اڑجانا۔ اگر آپ غور کریں تو اس میں آپ کے لیے نصیحت ہے۔وہ یہ کہ زندگی میں بہت سے منفی پہلو ہوتے ہیں، تم کو چاہیے کہ منفی پہلو کو نظر انداز کرو، اور مثبت پہلو کو لے کر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔