حکمت، دانائی اور وزڈم (wisdom) تینوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ وزڈم مسلمہ طور پر سب سے بڑی انسانی صفت ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ وزڈم کی کوئی واضح تعریف (definition) ڈکشنری میں موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وزڈم کوئی انڈیپنڈنٹ آئٹم نہیں۔ وزڈم دراصل پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کا دوسرا نام ہے۔ وزڈم دراصل اِس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی کسی مسئلہ کے متعلق اور غیر متعلق پہلو کو سمجھے اور غیر متعلق کو الگ کرکے متعلق کو دریافت کرسکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant.
اس بات کو ایک مفکر نے اس طرح بیان کیا ہے — دانش مند انسان وہ ہے جو چیزوں کے اضافی پہلو کو جانے:
A wise man is one who knows the relative aspect of things.
عام طورپر لوگ چیزوں کو صحیح اور غلط کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ ان کو جو چیز صحیح (right) نظر آئے اس کو لینا چاہتے ہیں اور جو بظاہر غلط (wrong) دکھائی دے اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ وزڈم نہیں ہے۔ وزڈم یہ ہے کہ آدمی چیزوں کو بہ اعتبار نتیجہ دیکھے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لئے انتخاب اکثر گڈ (good)اور بیڈ (bad)کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ کم برائی (lesser evil) اور بڑی برائی (greater evil) کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی زیادہ بڑی برائی کے مقابلے میں کم برائی کا انتخاب کرے، اسی کا نام وزڈم ہے۔
معلومات اور وزڈم ایک چیز نہیں۔ اگر کسی انسان کے پاس بہت زیادہ معلومات ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ وزڈم یا حکمت کا بھی مالک ہے۔ معلومات کا تعلق حافظہ (memory) سے ہے۔ جس آدمی کا حافظہ اچھا ہو، اس کی یادداشت میں بہت زیادہ باتیں محفوظ رہتی ہیں۔ لیکن وزڈم کا زیادہ تعلق قوت تجزیہ (power of analysis) سے ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔