آج کل مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے متفقہ طور پر ایک ہی بات بول رہے ہیں ۔ وہ یہ کہ غیر مسلم قومیں مسلمانوں کی دشمن بن گئی ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ یہ باتیں اتنی زیادہ کہی جارہی ہیں کہ ان کو سننا اور پڑھنا میرے جیسے انسان کے لیے ایک سزا کے برابر ہے۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے مطابق ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ باتیں کسی سازشی قوم کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ خود مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے کی بے دانشی کو ثابت کرتی ہیں۔
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہیں:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔ قرآن کی یہ آیت مسلمانوں کو خطاب کررہی ہے۔ اور یہ بتاتی ہے کہ دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، بلکہ خود اپنی کمزوری تم کو نقصان پہنچائے گی۔ ایسی حالت میں اغیار کی سازش کا نظریہ صرف اس بات کاثبوت ہے کہ لکھنے اور بولنے والا شخص قرآن سے مکمل طور پر بے خبر ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے ابلیس اور اس کی قوم کو پوری چھوٹ دی ہے کہ وہ انسان کے خلاف جو کچھ کرنا چاہے، آزادی کے ساتھ کرے۔ مثلاً ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ان میں سے جس پر تیرا بس چلے، تو اپنی آواز سے ان کا قدم اکھاڑ دے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا اور ان کے مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کر۔ اور شیطان کا وعدہ ایک دھوکہ کے سوا اور کچھ نہیں۔بے شک جو عباد اللہ ہیں ان پر تیراسلطان نہیں چلے گا اور تیرا رب کار سازی کے لئے کافی ہے (17:64-65)۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کے لیے اصل کام دوسروں کے خلاف شکایت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو عباد اللہ بنانا ہے۔ مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے لوگ ہیں، ان سب کو یہ چاہیے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ عبادا للہ کی شرطیں کیا ہیں، اور مسلمانوں کو ان شرطوں کے مطابق عبادا للہ بنائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔