ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:کفى بالمرء کذبا أن یحدّث بکل ما سمع (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5)یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ جس بات کو سنے ، اس کو وہ اسی طرح لوگوں سےبیان کرنے لگے۔ اس حدیثِ رسول میں بات کےغیر مطلوب طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بات کا مطلوب طریقہ کیا ہے۔
یہ مطلوب طریقہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 49 میں یہ اصول اس طرح بیان کیا گیاہے:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (الحجرات6 :) قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کو اسی طرح بیان نہ کیا جائے، بلکہ پہلے اس کی تبیین کی جائے۔ تبیین کا مطلب مکمل تحقیق (strict inquiry) ہے۔ بات کو سن کر اسی طرح لوگوںسےبیان کرنا، جھوٹےآدمی کی پہچان ہے، اور بات کو سننے کے بعد ، اس کی تحقیق (strict inquiry) کرنا، سچے آدمی کی پہچان ہے۔
انسان کی سب سے بڑی صفت سنجیدگی (sincerity)ہے۔ جس صفت کو مذہبی زبان میں تقوی کہا جاتا ہے، اسی صفت کا دوسرا نام سنجیدگی ہے۔ ایک سنجیدہ انسان اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کسی بات کو سنے تو وہ بلا تحقیق اس کو بیان کرنے لگے۔ سنجیدہ انسان کے اندر جو مزاج بنتا ہے، وہ مزاج اس طرح بات کرنے میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ بات آدمی کی پہچان ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالے جو اس کی پہچان کو بگاڑنے والی ہو۔
اگر کہی ہوئی بات ایک اچھی بات ہوتو اس کو بلا تحقیق دہرانے میں کوئی ہرج نہیں ۔ لیکن اگر کہی ہوئی بات ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی تصویر (image) کو مشتبہ کرنے والی ہےتو ایسی بات کو تحقیق کے بغیر ہر گز بیان نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔