پرسکون زندگی کا راز کم پر راضی ہونا ہے نہ کہ زیادہ کی تلاش میں رہنا۔ کم کی حد ہے لیکن زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ اس لئے ایسا ہوتا ہے کہ کم پر راضی ہونے والے کو پرسکون زندگی مل سکتی ہے لیکن زیادہ کی تلاش کرنے والا کبھی پرسکون زندگی حاصل نہیں کرسکتا۔مذہب کی اصطلاح میں کم پر راضی ہونے کا نام ’’قناعت ہے اور زیادہ کی تلاش میں رہنے کا نام ’’حرص ‘‘۔ ان ہی دو لفظوں میں زندگی کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔
جو آدمی اس حقیقت کو جان لے وہی عارف ہے اور جو آدمی اس حقیقت سے بے خبر رہے وہی وہ انسان ہے جس کو اس دنیا میں معرفت حاصل نہیں ہوئی۔پر سکون زندگی در اصل اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کا دوسرا نام ہے۔ آپ حالات کے اعتبار سے جن حقائق کے درمیان ہیں، اگر آپ ان حقائق (realities) کو جانیں اور ان کے مطابق اپنے عمل کا نقشہ بنائیں تو یقیناً آپ کامیاب رہیں گے۔ اس کے برعکس، اگر آپ صرف اپنی خواہشوں کو جانتے ہوں ، اگر آپ کو صرف اپنی تمناؤ ں کا علم ہو تو آپ حقائق سے بے خبر ہوجائیں گے۔ ایسی حالت میں آپ کی منصوبہ بندی مبنی بر حقیقت منصبوبہ بندی نہ ہوگی۔ ایسی منصوبہ بندی کا لازمی نتیجہ صرف ناکامی ہے۔
اگر آپ کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ نہ ہو اور اس بنا پر آپ ایسے راستے پر چل پڑیں جو حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہو تو اس کے بعد دوسری غلطی ہر گز مت کیجیے۔ یعنی اپنی ناکامی کا الزام دوسرے پر ڈال کر کسی مفروضہ دشمن کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان بلند کرنا۔ زندگی میں ہمیشہ نیا منصوبہ بنانا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن نیا منصوبہ صرف وہ لوگ بنا سکتے ہیں جو شکایت اور احتجاج کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔ اگر آپ زندگی میں ناکام رہیں تو ہمیشہ اس کا سبب اپنے اندر تلاش کیجیے۔ کسی تاخیر کے بغیر یہ اعتراف کیجیے کہ آپ نے غلطی کی ہے۔ غلطی کا اعتراف نئی کامیابی کا دروازہ کھولتا ہے۔ اور اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، آدمی کو اس رسک (risk) میں مبتلا کردیتا ہے کہ وہ کبھی کامیابی سے دوچار نہ ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.