عام طور پر لوگ سازش کے خلاف شکایت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سازش کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس کے خلاف احتجاج(protest) کیا جائے، اس کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے۔مگر قرآن میں سازش کے مسئلے کا جو حل بتایا گیا ہے، وہ اس قسم کا رد عمل (reaction) نہیں ہے، بلکہ وہ صرف پرامن تدبیر ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی مخالفانہ تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔
کید (evil scheme)کیا ہے۔ وہ دراصل کسی انسان یا قوم کا اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرنا ہے۔ آزادی انسان کو خالق کی طرف سے دی گئی ہے۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص یا قوم آپ کے نزدیک اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو آپ اس سے اس کی آزادی کو چھین نہیں سکتے۔ اس لیے آپ کے لیے صرف ایک موقع ہے۔ وہ یہ کہ حالات سے ٹکراؤ کرنے کے بجائے حالات کو پر امن طور پر مینج (manage)کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے سوا ہر کوشش بے فائدہ ہے۔ وہ کسی کو اس کے مطلوب انجام تک پہنچانے والی نہیں ۔
سازش یا مخالفانہ تدبیر کو آپ اپنی جوابی تدبیر سے غیر موثر بناسکتے ہیں۔ مگر اس کو ختم کرنا آپ کے لیے کسی حال میں ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دیناہے ۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ہوسکتا ہے۔ یہ معاملہ کسی قوم کا معاملہ نہیں ، بلکہ وہ براہ راست خالقِ کائنات کا معاملہ ہے۔ اور کون ہے جو خالق کائنات کے مقرر کیے ہوئے کورس کا خاتمہ کرسکے۔یہ اعلان کرنا کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے، فلاں قوم ہمارے خلاف سازش کررہی ہے، فلاں قوم اسلاموفوبیا میں مبتلا ہے، یہ سب بے حقیقت الفاظ میں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔