Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala September 2016
Al-Risala September 2016

بے آمیز دعوت کی ذمہ داری

Urdu · 4 min read

روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ کو غم کی حالت میں دیکھا تو انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ پربڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے (قد شبت) ۔ آپ نے فرمایا : شیبتی ہود واخواتہا (البحر الزخار، حدیث نمبر 92:)۔ اس حدیث پر اور دوسری متعلق روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کا یہ غم نبوت کی دعوتی ذمہ داری کی بنا پر تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت کی ذمہ داری خدائی پیغام رسانی کی ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ یہ کام کامل حد تک بے آمیز طریقہ سے کیا جائے۔ اس میں کسی بھی قسم کے قومی یا مادی یا سیاسی پہلو کی آمیزش نہ کی جائے۔ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کا یہی وہ پہلو ہے جس نےرسول اللہ کو اتنا غم گین بنا دیا کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ آپ قبل از وقت بوڑھے ہوگئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوتی ذمہ داری کے اس پہلو کا ذکر قرآن میں مختلف انداز سے آیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں قرآن کے دو حصوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

1۔ پس تم جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمھارے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی مدد گار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پائو گے۔ (11:112-13)

Qur'anQuotes the Qur'an

2۔ اور قریب تھا کہ یہ لوگ فتنہ میں ڈال کر تم کو اس سے ہٹادیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے، تاکہ تم اس کے سوا ہماری طرف غلط بات منسوب کرو اور تب وہ تم کو اپنا دوست بنالیتے۔ اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑو۔ پھر ہم تم کو زندگی اور موت دونوں کا دہرا (عذاب) چکھاتے۔ اس کے بعد تم ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی مدد گار نہ پاتے۔ (17:73-75)

Qur'anQuotes the Qur'an

قرآن وحدیث کے متعلق حوالوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح طورپر سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبل از بڑھاپے کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ یہ احساس تھا کہ دعوت الی اللہ کا کام اللہ رب العالمین کی نمائندگی کا کام ہے۔ اس کام کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کو آخری حد تک بے آمیزحالت کے ساتھ انجام دیا جائے، کوئی دوسرا پہلو اس میں ہرگز شامل نہ کیا جائے۔

سورہ ہود کی آیات میں رسول اللہ کے ساتھ دیگر اہلِ ایمان کو بھی شامل کیا گیا ہے اور دونوں کے لیے یکساں طورپر یہ وارننگ ہے کہ: وَلَا تَرْکَنُوا إِلَى الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ (11:13)۔ اس اسلوب سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ یہاں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ ایک ایسی ذمہ داری کا معاملہ ہے جو پیغمبر اور پیغمبر کی امت سے یکساں طورپر مطلوب ہے۔ کیوں کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد دعوت کا کام موقوف نہیں ہوتا، بلکہ امت وسط (البقرة143:) کے ذریعہ قیامت تک مسلسل طورپر جاری رہنے والا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ داعی اپنا دعوتی کام کسی خالی جزیرے میں نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کام کو عوام کے درمیان انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر دعوت کے عمل کے دوران مختلف قسم کے تقاضے باربار سامنے آتے ہیں۔مثلاً قومی تقاضا،گر وہی تقاضا ، مادی تقاضا، سیاسی تقاضا، وغیرہ۔ اس قسم کے تقاضے بار بار یہ دعوت دیتے ہیں کہ داعی ان کی رعایت کرے۔ تاکہ دعوت کا کام بلا رکاوٹ انجام دیا جاسکے۔ لیکن اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ خدائی تقاضے کے سوا کسی بھی تقاضے کا کوئی اعتبار نہ کیا جائے، بلکہ تمام تر خدائی تقاضے کو اہمیت دیتے ہوئے دعوت کا کام اپنی خالص اور بے آمیز صورت میں جاری رکھا جائے۔ دعوت إلی اللہ کی یہ شرط دعوت کے کام کو ایک ایسا گراں بار کام بنادیتی ہے کہ داعی سے اس کا سکون چھن جائے اور وہ لوگوں کو قبل از وقت بوڑھا نظر آنے لگے۔دعوت کا کام ایک خالص حق کا کام ہے۔ اس معاملے میں خدائی تقاضا (divine consideration)کے سوا کسی اور تقاضے (consideration)کی رعایت جائز نہیں۔ دعوت کے کام کو بظاہر انسان انجام دیتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دعوت کا کام ایک خدائی کام ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ دعوت کے کام کو انتہائی حد تک پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content