قرآن کی پہلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین(الفاتحہ1:) ہے۔ یعنی اللہ یکساں طور پر تمام انسانوں کا رب ہے۔ وہ صرف مسلم قوم کا رب نہیں۔ قرآن کو آپ پڑھیں تو آپ کو ملے گا کہ قرآن کا خطاب ایک عالمی خطاب ہے۔ چناں چہ قرآن میں آپ کو ملے گا کہ أیہا الناس، أیہاالإنسان ، یا بنی آدم جیسے الفاظ استعمال کیے گیے ہیں۔
کسی امت میں یہ نفسیات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ اس کے اندر اسلام کا تصور گھٹ کر قومی مذہب کا تصور بن جائے۔ اس وقت امت کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہم مسلم ہیں ، اور بقیہ لوگ کافر ہیں۔ اس وقت حق وباطل کا معیار یہ بن جاتا ہے کہ آدمی قومی اعتبار سے کس گروہ سے وابستہ ہے۔ ایک گروہ سے وابستگی دین دار ہونے کی علامت ہوتی ہے، اور دوسرے گروہ سے وابستگی بے دینی کی علامت۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ دین ایک قومی کلچر بن جائے، نہ کہ خداوند عالم کا بھیجا ہوا دین۔
جب کسی قوم پر زوال کا یہ وقت آتا ہے تو اس وقت سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا آفاقی تصور ختم ہوجاتا ہے۔ اب لوگوں کے اندر یہ جذبہ نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ بلکہ اس وقت لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ بن جاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے تصورِدین کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔ ہر گروہ اپنے گروہی مسلک کو حق سمجھتا ہے۔ اس طرح مذہبی تعصب کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کے درمیان دین کا نام موجود ہوتا ہے، لیکن دین کی حقیقت غائب ہوجاتی ہے۔
جب زوال کا یہ دور آتا ہے تو ظاہری چیزوں کی دھوم بڑھ جاتی ہے۔ لوگ ظاہری چیزوں کی دھوم دیکھ کر سمجھنے لگتے ہیں کہ دین زندہ ہے۔ حالاں کہ اسپرٹ کے اعتبار سے دین کا کوئی وجود نہیں ہوتا، جب کہ اسپرٹ ہی دین کی اصل حقیقت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔