مورخ ابن اثیر نےاپنی کتاب میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو یمن بھیجا۔ اس سے پہلے آپ نے خالد بن ولید کو ان کے درمیان بھیجا تھا تاکہ وہ ان کو اسلام کی طرف بلائیں، مگر انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہا۔ اس کے بعد آپ نے علی ابن ابی طالب کو بھیجا۔ اور ان کو یہ ہدایت دی کہ وہ اہل یمن کو خالد اور ان کے ساتھی کے نقصان کا تاوان اداکریں(وأمرہ أن یعقل خالدا ومن شاء من أصحابہ)۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔پھر انھوں نے اہل یمن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد قبیلۂ ہمدان کے تمام لوگوں نے ایک ہی دن میںاسلام قبول کرلیا۔ انھوں نے یہ واقعہ لکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ اہل ہمدان پر سلامتی ہو۔ایسا آپ نے تین بار کہا۔ پھراسی طرح دیگر اہل یمن نے اسلام قبول کرلیا۔اس واقعے کی خبرانھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ کر بھیجی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکر کے طور پر اللہ تعالی کو سجدہ کیا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد2، صفحہ300، بیروت ، 1979)
خالد بن الولید عسکری مزاج کے آدمی تھے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر انھوں نے اہل یمن کے ساتھ سختی کا معاملہ کیا۔ رسول اللہ نے اس رویہ کو درست نہیں قرار دیا۔ بلکہ اس کی تلافی کا انتظام فرمایا۔ تلافی کے معاملے کا مثبت اثر ہوا۔ اہل یمن کا دل نرم ہوگیا۔ انھوں نے پہلے اسلام کو قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن اب انھوں نے اسلام کی قبولیت کا اعلان کردیا۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک ایسا کام ہے جو ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کو پرامن انداز میں انجام دیا جائے، اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے، مدعو کی طرف سے اگر کوئی ناموافق رویہ سامنے آئے تو مدعو کے ساتھ یک طرفہ نرمی کا معاملہ کیا جائے،مدعو کے مقابلے میں ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔