موجودہ زمانےمیں اسلام کی دعوت اور اشاعت کے لیے کافی کام ہورہا ہے۔ لیکن ایک میدان ابھی تک باقی ہے، اور وہ ہے:
To present Islam at the modern intellectual level
یعنی آج کے فکری مستوی پر اسلام کوقابل فہم ( understandable) بنانا۔ دعوت کا کام میرے نزدیک صرف تبلیغ کاکام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ مدعو کے لیے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔ اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا جائے، جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ دعوت کے بارے میںاسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا(النساء 63:)۔یعنی اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
یہ کام وقت کا سب سے بڑا کام ہے۔ مگر اس کام کو موثر طور پر کرنے کے لیے ایک قربانی درکار ہے۔ وہ یہ کہ داعی کوالٹی (quality) کو کام سمجھے ، نہ کہ کوانٹٹی (quantity) کو۔ اگر آپ جدید دور کے چند آدمی کو اسلام کی سچائی پر مطمئن کرسکیں تو بلاشبہ یہ آپ کے لیے بہت بڑا rewardable کام ہوگا۔
دعوت کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مدعو کے پاس اس کے بعد کوئی حجت یا عذر باقی نہ رہے(النساء163:)۔ دعوت کا یہ معیار بتاتا ہے کہ دعوت کو مدعو کے فکری مستویٰ کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ اس کے بغیر جو دعوتی کام کیا جائے وہ مدعو کے لیے حجت نہیں بن سکتا۔ مثلا ًآپ قرآن کو ساری قوموں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ کریں ، لیکن یہ قرآن صرف عربی زبان میں ہو تو وہ مدعو کے لیے حجت نہیں بن سکتا۔ حجت کے درجے کا دعوتی کام وہی ہے جو مدعو کی قابل فہم زبان میں ہو۔ زبان کے اعتبار سے بھی اور اسلوب (idiom)کے اعتبار سے بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔