قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186) ۔ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے رب سے الفاظ کی زبان میں سوال کرتا ہے، لیکن اس کا رب اس کا جواب حالات کی زبان میں دیتا ہے۔ ان حالات کو الفاظ کی زبان دینا خود انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خالص مومنانہ ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے۔ اس کو یقینا اپنے سوال کا خدائی جواب مل جائے گا، کبھی فوراً اور کبھی دیر میں۔
سنت اللہ کے مطابق، اللہ کا جواب کسی غیر پیغمبر پر لفظوں میں نہیں آتا۔ بلکہ وہ حالات کی زبان میں آتا ہے۔ کبھی خود اپنے حالات کے ذریعے، کبھی دوسروں کے حالات کے ذریعے۔ یہ جواب انسان کو کان سے سنائی نہیں دیتا، البتہ عقل کے استعمال کے ذریعے وہ اس کو جان لیتا ہے۔ اللہ کے اس طریقہ میں انسان کے لیے بہت بڑی رحمت ہے۔ اگر اللہ کا جواب الفاظ کی صورت میں آئے تو وہ انسان کے لیے سخت مواخذے کا ذریعہ بن جائے گا۔ حالات کی زبان میں آنے کی بنا پر وہ انسان کے لیے اجتہاد کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ انسان کے لیے یہ گنجائش ہوتی ہے کہ اگر وہ اس کو سمجھنے میں غلطی کرے تو اس کا معاملہ اجتہادی خطا کا معاملہ بن جائے۔
اللہ کا جو جواب انسان کے پاس اس طرح آتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ آدمی متعصبانہ فکر (biased thinking) سے پاک ہو۔ وہ کھلے ذہن کے ساتھ چیزوں کو دیکھے، اور کھلے طور پران کے بارے میں اپنی رائے بنائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔