عبد اللہ ابن مسعود کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:أنہ کان یقول فی خطبتہ :خیر الزاد التقوى ورأس الحکمة مخافة اللہ عز وجل (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 728:) یعنی وہ اپنے خطبے میں کہا کرتے تھے: سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے، اور حکمت کا سرا اللہ عزوجل کا خوف ہے۔
حکمت (wisdom) کا تعلق خوف خدا سے کیا ہے۔ وہ باعتبار نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ خوف خدا آدمی کو انسانِ حقیقی (man cut to size) بناتا ہے۔ جو انسان ایسا انسان بن جائے اس کے اندر فطری طور پر تواضع (modesty) پیدا ہوتی ہے۔ اور تواضع ہر قسم کی خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ تواضع آدمی کوپورے معنوں میں حقیقت پسند بنادیتی ہے۔اور جو آدمی حقیقت پسند ہو، وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ غیر دانش مندانہ طریقہ اختیار کرے۔ دانائی (wisdom) اس صلاحیت کانام ہے کہ آدمی کسی معاملے میں غیر متعلق کو الگ کرکے متعلق کو دریافت کرسکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant.
آدمی کے اندر اگر تواضع نہ ہو تو وہ غیر ذمہ دارانہ انداز میں فیصلہ کرے گا۔ لیکن جس آدمی کے اندر تواضع ہو ، وہ انتہائی سنجیدہ ہوجائے گا۔ وہ اس کا تحمل نہ کرسکے گا کہ متعلق اور غیر متعلق یا نتیجہ خیز اور بے نتیجہ یا قابلِ عمل اور ناقابلِ عمل کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے۔ وہ جذباتی انداز میں سوچے، اور اندھا دھند طریقہ پر فیصلہ کرے۔ خوفِ خدا سے خالی انسان، غیر ذمہ دار انسان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر خوفِ خدا ہو وہ انتہائی حد تک ذمہ دار انسان بن جا ئے گا۔ یہ احساسِ ذمہ داری اس کو ایک دانش مند انسان بنادے گی۔اس بنا پر اللہ سے ڈرنے والا انسان ایک دانش مند انسان ہوتا ہے۔
صاحب حکمت وہ ہے جو چیزوں کے بارے میں ایز اٹ از (as it is) انداز میں سوچ سکے، وہ کسی ملاوٹ کے بغیر چیزوں کے بارے میں بے لاگ رائے قائم کرے۔ یہی انسان حکمت والا انسان ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔