ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبی ہریرة، قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:بدأ الإسلام غریبا، وسیعود کما بدأ غریبا، فطوبى للغرباء(صحیح مسلم، حدیث نمبر232:- [145])۔یعنی اسلام جب شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اور دوبارہ وہ اجنبی ہوجائے گا، تو مبارک باد ہے اجنبی لوگوں کے لئے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مسلمان اپنے دورِ زوال میں پہنچ جائیں۔ اس حقیقت کو حدیث میں مختلف طریقہ سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک حدیث رسول کے الفاظ یہ : یوشک أن یأتی على الناس زمان لا یبقى من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ، مساجدہم عامرة وہی خراب من الہدى(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر1763:) ۔یعنی قریب ہے کہ لوگوں پر وہ زمانہ آئے جب کہ اسلام کا صرف نام باقی رہے، اورقرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے، اس وقت ان کی مسجدیں بظاہر بھری ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔
کسی امت پر عروج کے بعد زوال کا آنا، قانونِ فطرت کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن اس کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ اس واقعہ میں ایک بڑی رحمت ہے - یہ لوگوں کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ دوبارہ دورِ اول والےایمان کا تجربہ کریں۔ وہ دوبارہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑے ہوں۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ ایک طرف یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے لیےاسلام کو ان کی دریافت (discovery) بنایا جائے، اور دوسری طرف داخلی اعتبار سے یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے لیے اسلام کو دریافت نو (re-discovery) بنایا جائے۔اسلام کی اصل بنیاد معرفت پر ہے۔ معرفت کے بغیر اسلام ایک ظاہری ڈھانچہ بن جائے گا۔ جس کی کوئی قیمت اللہ کے نزدیک نہ ہوگی۔ معرفت سے مراد داخلی اسپرٹ(spirit) ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔