ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:یحمل ہذا العلم من کل خلف عدولہ، ینفون عنہ تحریف الغالین، وانتحال المبطلین، وتأویل الجاہلین (شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر3884:)۔ یعنی اس علم کے حامل ہر نسل میں اس کے عادل لوگ ہوں گے، جو غلو کرنے والوں کی تحریف سے اس کو محفوظ رکھیں گے،اہل باطل کے انحراف سے اس کو پاک رکھیں گے، اور کم علم لوگوں کی غلط تاویلات سے اس کوبچائیں گے۔
اس حدیث رسول میں امت کے اہل علم کی ایک ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ ہر دور میں امت کے اہل علم کا یہ فریضہ ہوگا کہ وہ گہرے مطالعہ کے ذریعہ غلوپسندوں (extremists)کی غلطیوں کو دریافت کریں ، اور انتہاپسندانہ تصور دین کے مقابلے میں صحیح تصور دین کو پیش کریں۔ وہ دین سے انحراف کو جانیں ، اور منحرفانہ تشریح کے بجائے درست تشریح لوگوں کو دوبارہ بتائیں۔ وہ کم علم لوگوں کی قرآن و سنت کی غلط تاویل کو بولیں، اور درست تاویل کو دوبارہ قائم کریں۔
پیغمبرا سلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن و سنت پر مبنی جو دین امت کو دیا، اس کا متن تو محفوظ ہے۔ اور ہمیشہ محفوظ رہے گا، لیکن امت کی بعد کی نسلوں میں جو لوگ امت کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) اور زمانی افکار کی بنا پر اصل دین سے انحراف میں مبتلا ہوجائیں گے۔ وہ بظاہر قرآن و سنت کا نام لیں گے۔ لیکن ان کی باتوں میں غیر اہل دین کا فکر شامل ہوجائےگا۔ اس لیے ہر دور میں ضرورت ہوگی کہ امت کے اندر ایسے صالح اہل علم پیدا ہوں جو اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں زندہ کرتے رہیں۔یہ حدیث رسول اس عمل کو بتاتی ہے، جس کے ذریعے امت میں دین کے صحیح تصور کا تسلسل قائم رہے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت عملی اعتبار سے ہر گمراہی سے بچی رہے گی۔ یہ بات فکری اور نظریاتی اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اسلام کا متن (text) محفوظ ہےاسی طرح اسلام کا درست تصور بھی ہمیشہ محفوظ رہے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔