Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2016
Al-Risala September 2016

دورِ آخر کی اصلاح

Urdu · 2 min read

مالک ابن انس(وفات179ھ) تبع تابعی اپنے شیخ وہب ابن کیسان (وفات 127ھ) تابعی کے بارے میں بتاتے ہیں : کان وہب بن کیسان یقعد إلینا، ثم لا یقوم أبدا حتى یقول لنا إنہ لا یصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح أولہا(مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر783 :)یعنی وہب ابن کیسان ہماری مجلس میں آتے ، تو اٹھنے سے پہلے ہمیشہ یہ بات کہتے، بے شک اس امت کے آخر کی بھی اسی سے اصلاح ہوگی جس نے اس کے اول کی اصلاح کی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول ابتداء ً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا، پھر صحابہ سے یہ بات تابعین کو ملی ، پھر تابعین سے یہ بات تبع تابعین تک پہنچی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول کی صداقت میں کوئی شک نہیں۔

اب غور کیجیے کہ امت مسلمہ کا اول کیا تھا، اور اس کا آخر کیا ۔ امت مسلمہ کا اول دور وہ تھا جب کہ اس کے اندر قرآن پڑھا اور پڑھایا جاتا تھا۔ حدیث اور سنت کا چرچا تھا۔ صحابہ اور تابعین کی مجلسیں جگہ جگہ قائم تھیں۔ یہ تھا امت کا دورِ اول۔ اس دور کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ امت کا وہ آئڈیل دور ہے جب کہ اسلام اپنی اصل حالت پر قائم تھا۔

اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ امت کے اندر ایک اور چیزکا اضافہ ہوا۔ اور وہ بعد کو بننے والی تاریخ تھی۔ اس تاریخ میں وہ تمام اجزاء موجود تھے، جو کسی قوم کی تاریخ میں شامل ہوتے ہیں۔ اس میں سیاسی اقتدار تھا، جنگ تھی، قومی تصورات تھے، فاتح اور مفتوح (ruler and ruled)کے مساوات (equation)،ہمسایہ قوموں سے تعلقات، وغیرہ۔

اس معاملےکو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دورِ اول مبنی بر دعوت دور تھا۔ اور بعد کا دور مبنی بر سیاست دور بن گیا۔ پہلے دور میں اہل ایمان اصولی اسلام پر قائم تھے، بعد کے دور میں وہ ایک قومی مذہب پر قائم ہوگیے۔ یہی اس معاملے کا خلاصہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content