پیغمبر اسلام کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:عن أبی ہریرة، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم، قال:یدخل الجنة أقوام، أفئدتہم مثل أفئدة الطیر(صحیح مسلم، حدیث نمبر2840) یعنی جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل چڑیوں کے دل کے مانند ہوں گے۔
چڑیا کی مثال یہاں بہت بامعنی ہے۔ اس کی تشریح قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے جس میں اہل جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے :وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ (15:47)۔یعنی اور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔
چڑیا اللہ کی انوکھی مخلوق ہے۔چڑیا ایک ایسی مخلوق ہے جس کا دل مکمل طور پر حسد اور بغض سے خالی ہوتا ہے۔ چڑیا کا دل منفی جذبات سے پاک ہوتا ہے۔ چڑیا نفرت اور حسد جیسے جذبات سے نا آشنا ہوتی ہے۔ چڑیا کا دل ردعمل (reaction) کی نفسیات سےناآشنا ہوتا ہے۔اس اعتبار سے چڑیا اہل جنت کی مثال بن گئی ہے۔ اہل جنت اپنے ذہنی اور روحانی ارتقا کی بنا پر ایسے انسان ہوں گے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہوں۔ ان کی نظر میں ہر جنتی انسان ان کے حقیقی بھائی کی مانند ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی شرط کیا ہے۔ جنت ایک ایسی معیاری سوسائٹی ہوگی۔ جہاں صرف وہ لوگ داخلہ پائیں گے، جنھوں نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ جنتی معاشرہ کی اعلی شرطوں پر پورا اتررہے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کے اعتبار سے مثبت انسان ہیں۔ وہ اس اعلی سوسائٹی میں رہنے کے قابل ہیں جو تاریخ کے ان منتخب افراد کی سوسائٹی ہوگی جن کو نبی، اور صادق، اورصالح اور، حق کی گواہی دینے والے (النساء69 :)کہا گیا ہے۔جنت کسی مرد یا عورت کو ذاتی صفت کی بنا پر ملے گی، نہ کہ کسی اور کی سفارش کی بنا پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔