Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2016
Al-Risala September 2016

اہل جنت کی صفت

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:عن أبی ہریرة، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم، قال:یدخل الجنة أقوام، أفئدتہم مثل أفئدة الطیر(صحیح مسلم، حدیث نمبر2840) یعنی جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل چڑیوں کے دل کے مانند ہوں گے۔

hadithQuotes a hadith

چڑیا کی مثال یہاں بہت بامعنی ہے۔ اس کی تشریح قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے جس میں اہل جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے :وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ (15:47)۔یعنی اور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چڑیا اللہ کی انوکھی مخلوق ہے۔چڑیا ایک ایسی مخلوق ہے جس کا دل مکمل طور پر حسد اور بغض سے خالی ہوتا ہے۔ چڑیا کا دل منفی جذبات سے پاک ہوتا ہے۔ چڑیا نفرت اور حسد جیسے جذبات سے نا آشنا ہوتی ہے۔ چڑیا کا دل ردعمل (reaction) کی نفسیات سےناآشنا ہوتا ہے۔اس اعتبار سے چڑیا اہل جنت کی مثال بن گئی ہے۔ اہل جنت اپنے ذہنی اور روحانی ارتقا کی بنا پر ایسے انسان ہوں گے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہوں۔ ان کی نظر میں ہر جنتی انسان ان کے حقیقی بھائی کی مانند ہوگا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی شرط کیا ہے۔ جنت ایک ایسی معیاری سوسائٹی ہوگی۔ جہاں صرف وہ لوگ داخلہ پائیں گے، جنھوں نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ جنتی معاشرہ کی اعلی شرطوں پر پورا اتررہے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کے اعتبار سے مثبت انسان ہیں۔ وہ اس اعلی سوسائٹی میں رہنے کے قابل ہیں جو تاریخ کے ان منتخب افراد کی سوسائٹی ہوگی جن کو نبی، اور صادق، اورصالح اور، حق کی گواہی دینے والے (النساء69 :)کہا گیا ہے۔جنت کسی مرد یا عورت کو ذاتی صفت کی بنا پر ملے گی، نہ کہ کسی اور کی سفارش کی بنا پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content