ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالک قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم :لایستقیم إیمان عبد حتى یستقیم قلبہ (مسند احمد، حدیث نمبر13048)۔ انس بن مالک سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کا قلب درست نہ ہو۔
اس حدیث میں قلب سے مراد دل (heart) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عقل (reason) ہے۔کسی آدمی کو ایمان اس وقت حاصل ہوجاتا ہے، جب کہ وہ کلمۂ توحید کا اقرار کرے۔ مگر ایمان کی درستگی ، بالفاظ دیگر ایمان کی تکمیل صرف اس وقت ہوسکتی ہے، جب کہ آدمی اپنے ایمان کو اس طرح ترقی دے کہ وہ اس کی عقل کو پوری طرح مطمئن کرنے والا ایمان بن جائے۔ایمان صرف کلمہ کی ادائیگی والا ایمان نہ رہے، بلکہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) میں پوری طرح شامل ہوجائے۔
ایمان جب فکری عمل کا حصہ بن جائے تو وہ انسان کی پوری شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے آدمی کا زاویۂ نظر (angle of vision) بدل جاتا ہے۔ اس کی سوچ ، خدا رخی سوچ (God-oriented thinking)بن جاتی ہے۔ دینی اصطلاح میں اس معاملے کو تزکیہ کہا جاتا ہے۔ تزکیہ دراصل ذہنی ارتقا کا دوسرا نام ہے۔
انسان کی شخصیت اس کی سوچ کے تابع ہوتی ہے۔ سوچ کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہوتا ہے۔ جب ایمان سوچ پر مبنی ایمان بن جائے تو آدمی اسی سوچ کے مطابق ہر چیز کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ اسی کے مطابق، کسی چیز کو رد اور کسی چیز کو قبول کرتا ہے۔ وہ اسی کے مطابق اپنی زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ اس کے صبح و شام اسی کے مطابق گزرنے لگتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی اسی کے تابع بن جاتی ہے۔ آپ اپنی سوچ کو درست کیجیے، اور آپ کی پوری زندگی درست ہوجائے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔