عید الاضحی حضرت اسماعیل بن ابراہیم کی قربانی کی یادگار ہے۔ اس قربانی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِینُ ۔ وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِینَ (37:106-108)۔یعنی یقیناً یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کے عوض اس کو چھڑا لیا۔ اور ہم نے اس پر پچھلوں میں ایک گروہ کو چھوڑا۔
قرآن کی اس آیت میں چھڑانے سے مراد وہی واقعہ ہے جو عملا پیش آیا۔ یعنی حضرت اسماعیل کو جسمانی ذبح کے بجائے، اس بات کے لیے قبول کرلیا گیا کہ وہ توحید کے مشن میں ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy)کے کورس سے اپنے آپ کو گزاریں، اور اس کے بعد ایک نئی نسل تیار کریں۔ یہ منصوبۂ الٰہی بلاشبہ ایک عظیم امتحان کا معاملہ تھا۔ ہر سال جو عید الاضحی منائی جاتی ہے ، وہ اس لیے ہے کہ بعد کے اہل ایمان اس دن یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ اس قربانی کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ توحید کا مشن ابراہیمی پیٹرن پر قیامت تک جاری رہے۔
بعد کے زمانے میں اس پیٹرن کو دہرانے کا معاملہ باعتبار صورت نہیں ہوگا، بلکہ باعتبارِ حقیقت ہوگا۔ مثلا موجودہ زمانے میں تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد خاندانی تعمیر میں کام آئے۔ لیکن حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم کا نمونہ بتاتا ہے کہ ہر خاندان اپنے نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے تیار کرے کہ وہ توحید کا مشن اپنے زمانے کے حالات میں ہمیشہ جاری رکھیں۔ یہ منصوبہ ہر حال میں جاری رکھنا ہے، خواہ اس کے لیے جو بھی قربانی ادا کرنا پڑے۔ عید الاضحی کا دن تیوہار کا دن نہیں ہے، بلکہ وہ مذکورہ معنوں میں عہد کا ایک دن ہے۔
قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ تم دو، تاکہ جو کچھ تمھارے باہر ہےوہ تم کو مل سکے۔ قربانی اس بات کا سبق ہے کہ اگر تم کچھ پانا چاہتے ہو تو کھونے کا حوصلہ پیدا کرو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔