قرآن میں اللہ کی صفت کو بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:کَتَبَ عَلَى نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ (6:12) یعنی اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیاہے۔ یعنی اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ جو بھی معاملہ کرے گا وہ اعلی رحمت کے مطابق ہوگا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی اور کسی معاملہ میں رحمت کے خلاف معاملہ نہیں کرے گا۔اس رحمت کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہاجاسکتا ہے۔ اس خود اختیار کردہ اخلاقیات کو قرآن میں امانت (الاحزاب: 72) کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ نےانسان کو پیداکرکے اس دنیامیں رکھااور اس کو کامل آزادی دے دی۔ یہ کامل آزادی ایک انتہائی انوکھا اختیار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل آزادی کے باوجود اپنی آزادی کو ڈسپلن (discipline) کے اندر استعمال کرے۔قرآن میں اس کی ایک حکمت اس طرح بیان کی گئی ہے: اگر تم صبرکرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی(آل عمران120 :)۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لئے ضرر رساں (harmful) نہیں بنے گی، وہ تمھارے لئے غیر موثر ہوجائے گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے قانون کےمطابق سازش کا وجود کبھی ختم نہ ہوگا ۔البتہ دانشمندانہ روش کے ذریعہ دوسروں کی سازش کو اپنے لئے بے اثر بنایا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کو یہ شکایت ہے کہ پولیس آپ کے خلاف ہے اور وہ آپ پر گولی چلاتی ہے تو اس معاملہ کا مطالعہ کیجئے۔ گہرے مطالعہ کے ذریعہ آپ دریافت کریں گے کہ پولیس کبھی ایسا نہیں کرتی کہ وہ خود سے آپ کے اوپر گولی چلائے۔ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر ماریں گے اس کے بعد پولیس جوابی کارروائی کے طورپر آپ کے اوپر گولی چلائے گی۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر نہ ماریں۔اس کے بعد یقیناًپولیس آپ پر گولی بھی نہیں چلائے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔