گفتگو کے دو طریقے ہیں۔ایک یہ کہ گفتگو کے وقت جب دوسرا شخص آپ سے کوئی سوال کرے تو اس موضوع سے متعلق جو باتیں آپ کے دماغ میں موجودہوں، ان سب کو آپ شروع سے آخر تک دہرانے لگیں۔ یہ طریقہ آدابِ گفتگو کے خلاف ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ گفتگو کے آداب کو نہیں جانتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ سامنے والے کی بات سنیں، اور پھر یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ سائل کیا بات جاننا چاہتا ہے۔ اور پھر وہی بات بولیں، جو سائل آپ سے سننا چاہتا ہے۔ یہ گفتگو کا صحیح طریقہ ہے۔ اسی قسم کی گفتگو کامیاب گفتگو ہے، اور اسی قسم کی گفتگو نتیجہ خیز گفتگو ہے۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ گفتگو کے وقت وہ اپنے آپ میں جیتے ہیں۔ وہ دوسرے کی بات سننے سے زیادہ اپنی بات میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب بولتے ہیں تو سننے والے کو ان کی بات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
صحیح یہ ہے کہ آپ دوسرے کی بات کو خالی الذہن ہوکر سنیں، غیر جانب دارانہ انداز میں دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، دوسرے کی بات کو دوسرے کے ذہن سے سنیں نہ کہ خود اپنے ذہن سے۔ جو شخص ایسا کرے، وہی صحیح معنوں میں گفتگو کا طریقہ جانتا ہے۔
گفتگو خالق کی ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان کے سوا دوسری کسی مخلوق کو یہ نعمت حاصل نہیں۔ پہاڑ اور سمندر کے درمیان کبھی گفتگو نہیں ہوتی۔ دو جانوروں کے درمیان کبھی تبادلۂ خیال نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو کہنے اور سننے کی طاقت رکھتا ہے، اور بامعنی انداز میں تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر درست کلام کی صلاحیت پیدا کرے۔گفتگو کے وقت وہ اس اسپرٹ کے ساتھ گفتگو کرے کہ وہ دوسروں سے کچھ سیکھے اور خود دوسروں کو کچھ دینے کے قابل بات دے۔ وہ صاحب تعلیم بھی ہو اور صاحب تعلّم بھی۔ایسے آدمی کی گفتگو بھی ایک عبادت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.