Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2015
Al-Risala September 2015

معافی، رائے بدلنا

Urdu · 2 min read

کچھ باتیں ایسی ہیں جو معافی سے ختم ہوجاتی ہیں۔ مثلا کسی کو غصہ آگیا، اور غصے میں اس نے کوئی سخت بات کہہ دی، پھر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی۔ یہ وہ بات ہے، جو معافی سے ختم ہوجاتی ہے۔

دوسری بات وہ ہے جو اس وقت ختم ہوتی ہے، جب کہ آدمی اپنی رائے بدل لینے کا اعلان کرے۔ مثلا ایک شخص آپ کے بارے میں یہ کہے کہ آپ اسلام دشمن کے ایجنٹ ہیں، اور اس سے آپ کو پیسہ ملتا ہے، یہ بات صرف اس وقت ختم ہوگی جب کہ کہنے والا اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور اعلان کے ساتھ یہ کہے کہ میں نے جو کہا تھا، وہ صحیح نہیں تھا۔

وقتی جذبے کے تحت کوئی غلط بات منھ سے نکل جائے ۔ پھر آدمی کو اس پر شرمندگی ہو، اور وہ صاحب معاملہ سے معافی مانگ لے۔ یہ معافی کا کیس ہوگا۔ صاحب معاملہ کو چاہیے کہ وہ معافی مانگنے کے بعد اس کو معاف کردے۔ وہ دل میں اس کے خلاف کدورت نہ رکھے۔

لیکن جو غلطی سوچی سمجھی رائے کے تحت ہو۔ وہ اس وقت تک قابل معافی نہیں ، جب تک آدمی کا یہ حال نہ ہوجائے کہ وہ اپنی رائے کی غلطی دل سے مان لے۔ وہ سچے اعتراف کے جذبے کے تحت، صاحب معاملہ سے معافی کی درخواست کرے۔ ایسی حالت میں اس کی بات قابل معافی قرار پائے گی۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس بات کے برے اثرات سے اپنے دل کو پاک کرلیں۔

معافی مانگنا اور معافی قبول کرنا دونوں عبادت کے افعال ہیں۔معافی مانگنے والا معافی کے بعد ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے غلطی نہیں کی تھی۔ اورمعافی مانگنے کے بعد معاف کرنے والے کو اس بات کاکریڈٹ ملتا ہے کہ اس کا دل نفرت و عداوت سے خالی ہے۔اس کے دل میں انسان کے لیے خیرخواہی ہے، نہ کہ نفرت اور انتقام۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.