ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری (وفات 256ھ) اور محمد بن عیسی الترمذی (وفات279ھ)، دونوں ہم عصر تھے۔ دونوں کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے۔ اگر چہ امام البخاری کو اولیت حاصل ہے۔ امام الترمذی ، امام البخاری کے شاگرد تھے۔ تاہم امام البخاری نےاپنے شاگرد امام الترمذی سے کہا: ماانتفعتُ بک اکثر مما انتفعتَ بی (التہذیب لابن حجر9 / 389) یعنی میں نے تم سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جتنا تم نے مجھ سے فائدہ اٹھایا۔
یہ کوئی فضیلت یا علمی کمال کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ جو کہ افادہ اور استفادہ کی صورت میں دونوں فریق کو حاصل ہوتا ہے۔ افادہ کا مطلب دوسرے کو فائدہ پہنچانا، جس کو تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور استفادہ کا مطلب تعلم(learning) ہے۔یعنی دوسرے سے سیکھنا۔
اصل یہ ہے کہ دو انسان آپس میں سنجیدہ گفتگو کریں، دونوں کے درمیان کھلا ماحول ہو، دونوں کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی بات کو کسی تحفظ (reservation) کے بغیر دوسرے سے کہیں تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دو نقطۂ نظر کےدرمیان ٹکراؤ سے معاملے کا ایک تیسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ گفتگو کو اپنے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنائیں، دونوں ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور سکھائیں بھی ۔
دو یا چند انسانوں کے درمیان تبادلۂ خیال (exchange) بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ ہمیشہ ہر فریق کے لیے فائدے کا سبب بنتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تبادلہ خیال کے دونوں فریق سنجیدہ ہوں۔ وہ صحیح معنوں میں سچائی کے طالب ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ نہ تعریف سے خوش ہوں اور نہ وہ تنقید کو برا مانیں۔ وہ کسی بات کو بات کے لحاظ سے دیکھیں، نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ وہ تعصب سے خالی ہوکر اپنی بات کہیں اور دوسرے کی بات سنیں۔ ان کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ اپنی بات کو ہر حال میں صحیح ثابت کرنا ہے، اور دوسرے کی بات کو ہر حال میں رد کرنا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔