مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والاطبقہ اکثر یہ لکھتا اور بولتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز (discrimination) کا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ بات سرتاسر خلافِ واقعہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ ابلیس کی سنت ہے۔ جولوگ امتیاز کی بولی بولتے ہیں، وہ عملاً ابلیس کی پیروی کررہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے جنات کو پیدا کیا گیا(15:27)۔اس کے بعد اللہ نے انسان کو بنایا ، اور یہ اعلان کیا کہ انسان زمین میں خلیفہ ہوگا۔ اس پر جنات کے سردار ابلیس نے اعتراض کیا کہ یہ امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ کیوں کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے، اس لیے جنات کا درجہ بڑا ہے۔ ایسی حالت میں جنات کو نظر انداز کرکے آدم کو زمین کا خلیفہ بنانا امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امتیاز (discrimination) کچھ لوگوں کا خود ساختہ لفظ ہے۔حقیقت کے اعتبار سےاس دنیا میں امتیاز کا کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کو امتیاز کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سےنااہلی (incompetence) کا معاملہ ہے۔ آدمی اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے ساتھ امتیاز کا معاملہ کیا گیا۔
جب بھی کسی انسان کے دل میں اس قسم کی شکایت پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ خود اپنے بارے میں سوچے۔ اگر وہ غیر جانبدارانہ طور پر اپنے بارے میں سوچے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ دراصل میری اپنی کمزوری تھی جس کی مجھے قیمت دینی پڑی۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ میں اپنی کمزوری کو دور کروں۔ اس کے بعد مجھے کسی سے امتیاز کی شکایت نہ ہوگی۔
اجتماعی زندگی میں دوسرے کی شکایت کرنا یا دوسرے پر الزام دینا صرف اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہے، جو اس طرح کی شکایت یا الزام کا مصداق ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ اس طرح کی صورت پیش آئے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کوتاہی کو دریافت کرے، اور اپنی کوتاہی کی تلافی میں لگ جائے۔ یہی بات اسلام کے مطابق ہے، اور یہی بات عقل کے مطابق بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔