قرآن کی سورہ نمبر 35 میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت کی زندگی کا تجربہ کریں گے تو اس کا اعتراف کرتے ہوئےان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَـمْدُ لِلہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو درد اور غم سے مکمل طور پر خالی ہوگی۔
اہل جنت کا یہ کلمہ، ایک بہت معنی خیز کلمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دنیا ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لئےخوشیوں کی دنیا بن سکتی ہے۔یہ وہ دنیا ہے جو حزَن (pain) سے خالی ہو۔انسان بے حد حساس مخلوق ہے۔ حزَن کا معمولی ساتجربہ بھی انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ انسان کو رہنے کے لئے ایک ایسا محل مل جائےجس میں بظاہر آرام کے تمام سامان موجود ہوں لیکن اسی کے ساتھ اس میں رہنے والےانسان کو کوئی حزَن لاحق ہو۔ مثلا، اس کے ایک دانت میں درد پیدا ہوجائے تو انسان اتنا بے چین ہوجائے گا کہ محل میں موجود آرام و راحت کے تمام سامان اس کے لئے بے معنیٰ ہو جائیں گے۔انسان جیسی مخلوق کے لئے صرف وہ دنیاخوشی کی دنیا بن سکتی ہے، جو حزَن سے مکمل طور پر پاک ہو۔
انسان کی نسبت سے قرآن کا یہ بیان کامل معنوںایک مبنی بر واقعہ بیان (factual statement) ہے۔اتنا زیادہ مبنی بر واقعہ بیان کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیان اس بات کا ایک ثبوت ہےکہ قرآن ایک ایسی ہستی کی کتاب ہے جو تمام حقائق سے کامل واقفیت رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک ایسی دنیا بنانا جو کامل معنوں میں انسان کے تخلیقی ساخت سے مطابقت رکھتی ہو، ایک ایسا کام ہے جو صرف رب العالمین کے لئے ممکن ہے۔یعنی ایک ایسا رب جو پورے معنوں میں عالمی اختیارات کا مالک ہو۔ اس طرح یہ آیت خدا کےوجود کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے، اور اس بات کا ثبوت بھی کہ قرآن، رب العالمین کا کلام ہے، وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔