ایک صاحب جو ایک ٹاؤن میں رہتے ہیں، وہ دہلی آکر مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے مقام پر چلیں، وہاں دو دن ٹھہریں۔ ہم وہاں آپ کی تقریر کرائیں گے، اس کے علاوہ لوگ آپ سے ملاقات کریںگے اور ہمارے یہاں کام بڑھے گا۔
میںنے کہا کہ روایتی طورپر آپ لوگ کام کا ایک ہی پیٹرن جانتے ہیں، اور وہ ہے کسی عالم یا کسی بزرگ کو اپنے یہاں لے جانا، اور چند دن ان کو اپنے مقام پر ٹھہرا کر تقریر اور ملاقات کا پروگرام بنانا۔ عام زبان میں اس کو دورہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ مفید بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ اس معاملے میںایک سنت رسول کو زندہ کریں۔پھر میںنے کہا کہ رسول اللہ کی زندگی کے واقعات، سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں جو پیٹرن ملتاہے وہ دورہ والا پیٹرن نہیںہے۔ اس کا پیٹرن یہ ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آتا ہے، وہ آپ کی باتیں سنتا ہے اور قرآن کو سن کر اس کو یاد کرلیتاہے۔ پھر وہ اپنے مقام پر واپس جاتاہے۔ وہاں کے لوگوں کو وہ قرآن سناتا ہے اور رسول اللہ سے سیکھی ہوئی باتوں کو بتاتا ہے۔
اسی پیٹرن سے اس زمانہ میں رسول اللہ کا مشن پورے عرب میں پھیل گیا۔ دعوت کے اس پیٹرن کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہلِ ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں ۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ (9:122)
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اِس زمانہ میں اس پیٹرن کو زیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے-آپ اس پیٹرن کی اہمیت کو سمجھئے اور اس کے مطابق کام کیجئے۔پھر میں نے کہا کہ ہم اس پیٹرن کو موجودہ زمانہ میں زندہ کررہے ہیں۔ ہم قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں تیار کرکے چھاپ رہے ہیں۔ آپ قرآن کے ان ترجموں کو ہر جگہ لوگوں کے درمیان پھیلائیے۔ اس کے علاوہ ہم نے جدید ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میںاسلامی کتابیں تیار کی ہیں۔ یہ گویا سپورٹنگ لٹریچر ہے۔ آپ ان مطبوعہ کتابوں کو ہر جگہ آسانی کے ساتھ پھیلا سکتےہیں۔ یہی دعوت کا پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکےآپ مشن میں اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔
اس پیغمبرانہ طریقے میں مزید بہت سے فائدے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ وہ ہے جس کوذاتی شرکت (personal involvement) کہا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں یہ ہوگا کہ آپ منصوبہ بندی (planning)کریں گے۔ آپ لوگوں سے ملیں گے۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا انٹرایکشن ہوگا۔ آپ کو نئے نئے تجربات پیش آئیں گے۔ آپ کی دعوہ اسپرٹ میں اضافہ ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا تعلق بڑھے گا۔ آپ حالات سے باخبر ہوتے چلے جائیں گے۔آپ کا دعوتی کام تنظیم (organization) کی صورت اختیار کرلے گا۔
اس طریقے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں جو آپ کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ آپ کے ساتھ ایسے مواقع پیش آتے ہیں جو آپ کے اندر دعوت کی کیفیت کو ابھارتے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے تحت، آپ محسوس کرتے ہیں کہ مجھے اپنا مطالعہ بڑھانا چاہیے۔اس عمل کے دوران، آپ انسان کی رعایت کرنا سیکھتے ہیں۔ آپ جب ایک عالم یا ایک بزرگ کو بلاکر ان سے تقریر کرواتے ہیں تو وہ صرف ایک کام ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ مذکورہ پیغمبرانہ سنت پر عمل کریں تو آپ کا دعوتی کام ہزار پہلووں والا کام بن جائے گا۔
پیغمبرانہ سنت کے مطابق عمل کرنے سے آپ کے عمل کا فائدہ دگنا ہوجاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مفید ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے بھی۔ آپ کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ مدعو کے لیے یہ فائدہ کہ وہ زیادہ بہتر طور پر مشن کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے، وہ زیادہ غور و فکر کے ساتھ مشن کے بارے اپنے رویے کا تعین کرتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔