علماء کے درمیان قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ ایمان میں عمل داخل ہے یا نہیں- پچھلی صدیوں میں اِس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر متعلق بحث ہے- اِس بحث کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں- یہ بحث ایک حدیثِ رسول کی بنا پر پیدا ہوئی ہے جس میں یہ کہاگیا ہے : مَن قال لا إلہ إلا اللہ، دخل الجنة(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 151)-
اِس حدیث کے ظاہر کو لے کر یہ رائے قائم کرلی گئی کہ قول یا زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام ایمان ہے، اور جو شخص زبان سے کلمہ پڑھ لے، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا-
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ایک اساسی معاملہ ہے- ایمان کے معاملے میں صحیح رائے وہی ہے جو دوسری آیتوں اور حدیثوں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہو- اِس حیثیت سے جب ایمان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے بیج (seed)کی مانند ہے۔ جس طرح ایک بیج کے اندر پورا درخت امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح ایمان کے اندر پورا اسلامی عمل بھی امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔
ایمان کا بیج پورا درخت کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ تدبر اور تفکر کے ذریعے۔ مومن وہ ہے جو معرفت کا حریص ہو۔ جو قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، جو خدا کی تخلیق میں مسلسل طور پر غور کرے۔ جو شخص اس طرح کی مومنانہ زندگی اختیار کرتا ہے، اس کا ایمان درخت کی مانند ہر وقت بڑھتا رہتا ہے۔ اس طرح کا عمل اس کے ایمان کو ایک تخلیقی ایمان (creative faith)بنادیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر دن اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر دن اس کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تعلق باللہ میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تزکیہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس عمل کوروک دے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان جتنا زیادہ قوی ہوگا، اتنا ہی انسان کی عملی زندگی میں اس کا اظہار ہوگا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔