پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن علی بن أبی طالب، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:الإیمان معرفة بالقلب، وقول باللسان، وعمل بالأرکان (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر 65)۔ یعنی علی ابن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان قلبی معرفت کا نام ہے، اور زبان سے اقرار کا ، اور ارکان پر عمل کرنے کا ۔
جس طرح بیج سے پورا درخت نکلتا ہے، یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا آغاز معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے۔ معرفت جب آدمی کے شعور کا حصہ بن جاتی ہے، تو اسی کا نام ایمان ہے۔ معرفت جب یقین (conviction) بن کر آدمی کی زبان پر جاری ہوجائے تو اسی کا نام لسانی اقرار ہے۔ معرفت جب آدمی کے عمل میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ارکانِ دین کی عملی پیروی کرنا ہے۔ جس طرح بیج کے اندر پورا درخت ہوتا ہے، اسی طرح معرفت کے اندر پورا اسلام موجود ہوتا ہے۔
معرفت ابتدائی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہوتی ہے۔ پھر آدمی جب غور وفکر کرتا ہے تو معرفت ان فولڈ (unfold) ہونے لگتی ہے۔ قرآن میں تدبر اور کائنات میں غور وفکر کے ذریعے معرفت اپنے ارتقائی درجےتک پہنچتی ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں معرفت کا تصور حذف ہوگیا۔ علم کلام بظاہر معرفت کا علم تھا، لیکن متکلمین نے علم کلام کو یونانیات پر مبنی کردیا۔ اس لیے علم کلام حقیقی معنوں میں معرفت کا علم نہ بن سکا۔ صوفیا نے بظاہر معرفت کو اپنا موضوع بنایا۔ لیکن انھوں نے یہ غلطی کی کہ معرفت کو تدبر (contemplation)یعنی عقلی غور و فکر پر مبنی قرار نہیں دیا، بلکہ انھوں نے مراقبہ (meditation) کو معرفت کا سر چشمہ سمجھ لیا۔ یعنی جوچیز عقل کے ذریعے ملنے والی تھی، اس کو دل (heart) میں تلاش کرنے لگے۔ معرفت دل کے اندر موجود ہی نہ تھی، اس لیےصوفیا کو حقیقی معرفت نہیں ملی۔اس طرح متکلمین بھی معرفت سے محروم ہوگیے اور صوفیا بھی۔یہی معاملہ فقہ کے ساتھ پیش آیا جو معرفت کے بجائے ظواہر احکام کا موضوع بن کر رہ گئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔