قرآن میں ایک اجتماعی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (2:205)۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انسان یا کوئی گروہ اگر سماج میں ایسی سرگرمی جاری کرے جس کے نتیجے میںلوگ قتل کیے جائیں اور لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں تو یہ ایک ایسا فعل ہے جو اللہ کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے۔ایسی کسی سرگرمی پر اللہ کی مدد نہیں آسکتی۔ ایسی سرگرمی کرنے والے لوگ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں، ان کو اللہ کی مدد ہرگز ملنے والی نہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں تباہی کی تاریخ بنائیں گے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اجتماعی سرگرمی میں صحیح اور غلط کا معیار کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں وہی سرگرمی درست ہے، جو سماج میں مثبت قدروں (positive values) کو فروغ دے، جس سے لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوں، جس سے سماج کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے۔اس کے برعکس، جو سماجی سرگرمی سماج کے اندر نفرت اور تشدد پیدا کرے، جس سے لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں ، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں۔ ایسی سرگرمی بلاشبہ اللہ کے نزدیک صرف برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی زندگی میں کسی سرگرمی کا معیار ، اس کا نتیجہ (result) ہے۔ لیڈر کے اوپر فرض ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ اس کی سرگرمی سے برا نتیجہ نکل رہا ہے ، لوگوں کی معاشیات تباہ ہورہی ہیں، اور لوگ قتل کیے جارہے ہیں،تو فورا اس کو اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سرگرمی اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ ہم اس کو فورا ختم کرتے ہیں، اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہماری غلطی کے لیے ہم کومعاف فرمائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔