آخرت کا عقیدہ، اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ آخرت پر عقیدہ کے بغیرکوئی شخص مومن نہیں بن سکتا۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میں خدا کومانتا ہوں، میں رسول کو مانتا ہوں، لیکن میں آخرت کے عقیدے کو نہیں مانتا توایسے شخص کو مومن اور مسلم قرار نہیں دیا جائے گا۔
آخرت کا عقیدہ صرف لفظی اقرار کا نام نہیں ہے۔آخرت کا عقیدہ ایک زندہ یقین کا نام ہے۔آخرت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان نے زندگی کی حقیقت پر غور کیا۔ اس نے شعوری طور پرآخرت کی حقیقت کو دریافت کیا،اور پھرآخرت اس کے لئے اس کے زندہ ایمان (living faith)کا حصہ بن گئی۔ آخرت کا زندہ یقین اس پر اس طرح چھایا کہ اس کی زندگی ہر اعتبار سے آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) بن گئی۔ یہی وہ شخص ہے جو آخرت پر ایمان لانے والا ہے۔
آخرت پر عقیدے کا مطلب ہے— جسمانی اعتبار سے دنیا میں رہتے ہوئے، فکر کے اعتبار سے آخرت میں پہنچ جانا۔ دکھائی دینے والی دنیا میں رہتے ہوئے، نہ دکھائی دینے والی دنیامیں جینے والا بن جانا۔ موجودہ دنیا انسان کے لئے ایک معلوم دنیا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے آدمی ہر لمحہ اس کو دیکھتا ہے، اس کا عملاً تجربہ کرتا ہے، وہ اس دنیا میں زندگی گزارتا ہے، اورسوکر صبح کودوبارہ اسی دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ موجودہ دنیا ہر وقت اس کو اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔
ایسی حالت میںآخرت پر زندہ یقین صرف اس شخص کو حاصل ہوگا، جو اپنے آپ کو سوچ کی سطح پر اتنا زیادہ اٹھائے کہ وہ عملاً آخرت میں نہ رہتے ہوئے سوچ کی سطح پر آخرت میں پہنچ جائے، وہ ہر دن اپنی کنڈیشننگ کو توڑتا رہے، وہ ہر صبح و شام آخرت پر اپنے عقیدے کی تجدید کرتا رہے، وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking)کی صلاحیت پیدا کرے۔یہی وہ انسان ہے جو آخرت کا مومن قرار پائے گا، اور یہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت میں ابدی جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.