Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2015
Al-Risala September 2015

خدا کا عقیدہ

Urdu · 2 min read

برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل ایک غیر مذہبی (nonbeliever) انسان تھا۔ اسی طرح جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹائن ایک غیر مذہبی انسان تھا۔ مگر دونوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ منکر خدا (atheists) ہیں۔ دونوں نے کہا کہ ان کا کیس agnosticism کا کیس ہے۔ یعنی دونوں نے خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں اثباتی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہی حال تمام غیر مذہبی لوگوں کا ہمیشہ رہا ہے۔

خدا کے وجود کے بارے میں ایک موقف وہ ہے جس کو غیر علمی موقف کہنا صحیح ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو صاف لفظوں میں خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیس یہ ہے کہ وہ علم کے حدود کو نہیں جانتے، اس لیے وہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ بھی بولتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا قول علمی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہے۔

دوسرا کیس ان لوگوں کا ہے جنھوں نے علوم کا مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ انسانی علم کی حد کیا ہے۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ خدا ہم کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے علمی ذوق کے بنا پر انکار کے الفاظ نہیں بولتے۔ وہ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ خدا ہے یا نہیں۔

دونوں قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں: پہلی قسم کے لوگ بھی اور دوسری قسم کے لوگ بھی۔ پچھلے زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو ملحد کہا جاتا تھا، اور دوسری قسم کے لوگوں کو لاادریہ۔ موجودہ زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو اتھیسٹ (atheist) کہا جاتا ہے، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اگناسٹک (agnostic) کہا جاتا ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے راقم الحروف کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، مذہب اور جدید چیلنج، اور اسلام اور عصر حاضر۔ان کے علاوہ اظہار دین کا مطالعہ بھی اس سلسلے میںمفید ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.