قرآن کی سورہ نمبر 93 میں یہ آیت آئی ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَر۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ : 10-11)۔ اس آیت میں سائل کا لفظ آیا ہے۔ سائل کے معنی ہیں سوال کرنے والا۔ یہاں سائل سے مراد پیسہ مانگنے والا نہیں ہے۔ بلکہ سائل سے مراد وہ شخص ہے جو سچائی کے بارے میں دریافت کرے۔ یہاں سائل سے مراد وہ انسان ہے جس کو متلاشی( seeker) کہا جاتا ہے۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔ یہ آیت سائل کے مطلب کو واضح کردیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ طالب حق سے پوری خیرخواہی کے ساتھ ملو۔ طالب حق کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ اختیار کرو۔ طالب حق کو دین کی تعلیم اور دین کی حکمت بیان کرو۔ طالب حق سے اس انداز میں گفتگو کرو جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والاہو۔ قرآن کی یہ آیت حکیمانہ دعوت کی اہمیت کو بتاتی ہے۔
جب کوئی حق کا متلاشی آپ کے پاس آئے تو وہ ایسے سوالات کر سکتا ہے، جو آپ کے لیے نامانوس سوالات ہوں۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سائل کی بات سنجیدگی کے ساتھ سنے اور خیر خواہی کے ساتھ اس کا جواب دے۔ وہ سائل کو حقیر نہ سمجھے، وہ سائل کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کرے۔ اوراگر وہ خود جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تو وہ اس کو مشورہ دے کہ تم فلاں فلاں کتاب کا مطالعہ کرو۔ اسی کے ساتھ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود سائل کے لیے دعا کرے۔ اور سائل کو بھی بتائے کہ سوال کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔
اگر آپ کے پاس سچائی ہے تو وہ آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اس امانت کو اللہ کے بندوں تک پہنچائیں۔آپ کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آپ سائل کو کچھ نہ کچھ جواب دے دیں۔ بلکہ آپ کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔سوال کرنا بھی ذمے داری ہے، اور سوال کا جواب دینا بھی ذمے داری ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔