انسان ایک بہترین مخلوق کی حیثیت سے دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد اس کو مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں— نقصان، بیماری، حادثات، بڑھاپا اور آخر میں موت۔ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ اگر اس کا حق (right) ہو تو کبھی اس کو زوال یا محرومی کا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بطور حق نہیں ملتا۔ پھر اس پانے، اور بظاہر کھونے کی توجیہہ کیا ہے۔
قرآن کے مطابق ،یہ پانا بطور ابتلاء (test) ہوتا ہے، یعنی مختلف احوال میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں احسن العمل (67:2) کون ہے۔ یعنی وہ کون شخص ہے، جواپنے ذہن کو اتنا بیدار کرے کہ وہ خالق کی نظر میں رائٹ پرسن (right person) قرار پائے۔اسی رائٹ پرسن کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ سےایسےافراد کو منتخب (select) کیا جائے گا، جنھوں نے اپنے عمل سے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے دو دَور ہیں۔ پہلا دور ، عارضی مدت کا دور، دوسرا دور ابدی حیات کا دور۔پہلے دور میں جو افراد کوالیفائی کریں گے، وہ ابدی دور حیات کے لئے منتخب کیے جائیں گے، اور جو لوگ کوالیفائی نہیں کریں گے، خالق کی عدالت میں ان کا انجام وہ ہوگا، جس کو بائبل میں الفضۃ المرفوضہ (rejected silver) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد منتخب افراد پر مبنی معاشرہ بنے گا، جہاں وہ ابدی طور پرجنتی ماحول میں زندگی گزاریں گے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کے ابدی معاشرہ میں جگہ پانے والے لوگ کہیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔یہ جملہ انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حزَن پہلے دورِ حیات کا ظاہرہ ہے۔ دوسرا دورِ حیات وہ ہے جو ہر قسم کے حزَن سے مکمل طور پر خالی ہوگا۔اسی دوسرے دورِ حیات کا نام جنت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔