ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أحبوا اللہ لما یغذوکم من نِعَمِہ وأحبونی بحب اللہ وأحبوا أہل بیتی لحبی (سنن الترمذی ، حدیث نمبر3789)۔ یعنی اللہ سے محبت کرو، اس بنا پر کہ وہ تم کو اپنی نعمتوں سے غذا عطا کرتا ہے، اور مجھ سے محبت کرو اللہ سے محبت کی بنا پر، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری وجہ سے۔اس حدیث میں تین محبتوں کا ذکر ہے۔ پہلی محبت ہے اللہ کی نعمتوں کی بنا پر اللہ سے محبت کرنا۔ یہاں غذا صرف خوراک کے معنی میں نہیںہے، بلکہ ہر قسم کے عطیات الہی کے معنی میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے۔ ان نعمتوں پر غور و فکر کرے۔ ان نعمتوں کی اہمیت کا باربار چرچا کرے۔ اس طرح فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کے اندر اللہ سے حُبّ شدید (strong affection) پیدا ہوجائے گا۔ انسان اللہ کو کچھ نہیں دے سکتا۔ انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کے عطیات کا گہرا اعتراف کرے۔ اسی گہرے اعتراف کا نام حُبّ الہی ہے۔
اللہ کے لیے پیغمبر سے محبت کرنا یہ ہے کہ پیغمبر کے اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ دریافت کرنا کہ پیغمبر کے ذریعے ہم کو وہ ہدایت ملی جو ہم کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ دریافت جتنی زیادہ شدید ہوگی، اتنی ہی زیادہ آدمی کے اندر پیغمبر خدا کے ساتھ محبت پیدا ہوجائے گی۔
پیغمبر کے اہل بیت سے محبت اس لیے ہے کہ اہل بیت نے پیغمبر کے مشن میں مکمل طور پر ساتھ دیا۔ کسی تکلیف یا شکایت کو انھوں نے عذر نہیں بنایا۔ وہ یک طرفہ وفاداری کے ساتھ پیغمبر سے جڑے رہے۔
محبت کی یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اللہ سے محبت کے بعد فطری طور پر پیغمبر سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور پیغمبر سے محبت کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت سے آدمی کے اندرمحبت پیدا ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ پیغمبر کو اپنے مشن میں طرح طرح کے مشکل حالات پیش آئے، مگر اہل بیت کے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔