قرآن کی سورہ نمبر 93 میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے کچھ ربانی عطیات کا ذکر کیا گیا ہے۔سورہ کے آخر میں یہ آیت ہے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:11) یعنی تم اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے رب سے ملی ہوئی نعمتوں کو دعوت کا موضوع بناؤ۔خدا کی نعمت کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر لوگوں کے سامنے دعوت الی اللہ کا چرچا کرو۔انفرادی (particular) واقعے کو جنرلائز (generalize) کر کے اس کو سب کے لئے سبق کا ذریعہ بنادو۔
اس معاملے کی مزید وضاحت کی جائے تو کائناتی سطح پر ملی نعمتیں بھی اس میں شامل ہو جائیں گی۔جب ایک شخص صبح کے وقت سورج کو نکلتا ہوا دیکھے تو اس کو نعمتِ الٰہی کا ایک عجیب احساس ہوگا۔ جب وہ تازہ ہوا میں سانس لے اور آکسیجن جیسی نعمت کو اپنے اندر داخل کرے تو اس کو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کا تجربہ ہوگا۔ایک شخص جب پانی کاگلاس ہاتھ میں لے، اور اس کو پی کر اپنی پیاس بجھائے تو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کی دریافت کرے گا۔ ان ربانی نعمتوں کو دریافت کرنا اور ان کو دعوت کا موضوع بنانا، یہی تحدیث نعمت ہے۔
نعمت کی تحدیث کا مطلب ہے ، نعمت کی چرچا کرنا۔ مگریہ سادہ بات نہیں۔تحدیثِ نعمت سے پہلے نعمت کی معرفت ہے، اور نعمت کی معرفت سے پہلے اس کے بارے میں غورو فکر کرنا ہے۔ غور و فکر سے پہلے سنجیدگی کی شرط ہے۔ آدمی پہلے سنجیدہ بنتا ہے، اس کے بعد وہ حقیقتوں پر غور کرتا ہے، اس کے بعد اس کو خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کا سینہ نعمتوں پر شکر سے بھر جاتا ہے۔اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے۔ یعنی دوسروں سے اس کا چرچا کرنا، دوسروں کو اپنے احساس میں شریک کرنا، دوسروں کو خالق کی معرفت میں جینے والا بنانا، دوسروں کو اس قابل بنانا کہ وہ آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔