نماز کے مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو قرأت فاتحہ خلف الامام کہا جاتا ہے۔ یعنی نماز کے وقت امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔ اس مسئلے پر فقہ کی کتابوں میں بہت زیادہ بحثیں ملتی ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قاری کے اندر روحِ فاتحہ (spirit of fatiha) موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ روح فاتحہ کے اہمیت اتنی ہے، جتنا کہ نماز کے لئےنیت۔ ایک فقہی مسئلہ یہ کہ نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
مگر یہی بات روح (spirit) کی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں کہتا ہے کہ الحمد للہ رب العالمین تو باعتبارنیت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نمازی اللہ رب العالمین کی حمد میں سرشار ہے، اور اس کی یہ سرشاری لفظوں کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے۔
سورہ فاتحہ کے معانی پر غور کیجیے۔ اس سورہ کی سات آیتوں میں پوری ایمانی زندگی کا خلاصہ ہے۔ اس میں رب العالمین کی نعمتوں پر شکر کا بیان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اللہ قیامت میں سب کے اعمال کی بنیاد پر ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بندے کے اندر عبادت اور استعانت کی اسپرٹ موجزن ہونا چاہیے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ ہدایت کو دینے والا صرف اللہ ہے، اور انسان کو اسی سے ہدایت کا طالب ہونا چاہیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہدایت پانے والے لوگ اس دنیا میں انعام یافتہ ہیں۔ اور جن کو اللہ کی طرف سے ہدایت کی توفیق نہ ملے، ایسے لوگ وہ ہیں جو اللہ کے غضب کا مستحق قرار پائے۔
یہ وہ تعلیمات ہیں جو سورہ فاتحہ میں دی گئی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب(مسند احمد، حدیث نمبر: 22671)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچا نمازی وہ ہے جس کے اندر سورہ فاتحہ کی یہ روح پائی جائے۔نمازی کو چاہیے کہ وہ اسی روح فاتحہ کے ساتھ نماز ادا کرے۔جو نماز اس روح فاتحہ سے خالی ہو وہ نماز، نماز نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔