قرآن میں ایک پیغمبر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مصیبت کے وقت کہا: إِنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَى اللَّہِ (12:86) یعنی پیغمبر نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اﷲ سے کرتا ہوں۔پیغمبر کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ مومن کے لیے مصیبت کے وقت صحیح رویہ کیا ہے۔ یہ کہ وہ مصیبت کے وقت غم کرنے کے بجائے دعا کرے، وہ مسئلہ کو اللہ کے خانے میں ڈال دے۔
یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ مسئلہ کو اپنے اوپر لینے سے غم کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مسئلہ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے تو اس وقت آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میں نے اپنے معاملے کو تیرے حوالے کردیا تو ہی اس معاملے کے پہلووں کو بہتر جانتا ہے:
سپردم بتو ما یۂ خویش را تو دانی حسابِ کم و بیش را
اس فارمولے کو غم کرنے کے بجائے دعا کرنا کہا جاسکتا ہے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے لیے زندگی کا سب سے اچھا اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اس کو غمگین بنادینے والے ہوں۔ ایسے حالات میں عام طور پرایسا ہوتا ہے کہ لوگ یا شکایت کرتے ہیں، یا غم کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس معاملے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ مسئلے کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں آدمی کے بس میں صرف افسوس ہے، مگر اللہ رب العالمین سارے معاملات پر پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ وہ معاملات کو جس طرح چاہے کنٹرول کرے۔ وہ حالات کو دعا کرنے والے کے موافق بنادے۔ ایسی حالت میں یہی روش حقیقت پسندانہ روش ہے کہ معاملے کو اپنے اوپر لینے کے بجائے، اس کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔