Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2015
Al-Risala September 2015

غم کے بجائے دعا

Urdu · 2 min read

قرآن میں ایک پیغمبر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مصیبت کے وقت کہا: إِنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَى اللَّہِ (12:86) یعنی پیغمبر نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اﷲ سے کرتا ہوں۔پیغمبر کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ مومن کے لیے مصیبت کے وقت صحیح رویہ کیا ہے۔ یہ کہ وہ مصیبت کے وقت غم کرنے کے بجائے دعا کرے، وہ مسئلہ کو اللہ کے خانے میں ڈال دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ مسئلہ کو اپنے اوپر لینے سے غم کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مسئلہ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے تو اس وقت آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میں نے اپنے معاملے کو تیرے حوالے کردیا تو ہی اس معاملے کے پہلووں کو بہتر جانتا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سپردم بتو ما یۂ خویش را تو دانی حسابِ کم و بیش را

اس فارمولے کو غم کرنے کے بجائے دعا کرنا کہا جاسکتا ہے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے لیے زندگی کا سب سے اچھا اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اس کو غمگین بنادینے والے ہوں۔ ایسے حالات میں عام طور پرایسا ہوتا ہے کہ لوگ یا شکایت کرتے ہیں، یا غم کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس معاملے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ مسئلے کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں آدمی کے بس میں صرف افسوس ہے، مگر اللہ رب العالمین سارے معاملات پر پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ وہ معاملات کو جس طرح چاہے کنٹرول کرے۔ وہ حالات کو دعا کرنے والے کے موافق بنادے۔ ایسی حالت میں یہی روش حقیقت پسندانہ روش ہے کہ معاملے کو اپنے اوپر لینے کے بجائے، اس کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content