Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala September 2014
Al-Risala September 2014

منصوبۂ خداوندی

Urdu · 3 min read

خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب نے 15 ہجری (636ء) میں مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا تھا- اِس سفر کے بارے میں ایک روایت ہے جس کو مؤرخ الطبری نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: لما استمد أہل الشام عمر على أہل فلسطین، استخلف علیا، وخرج ممدا لہم، فقال علی: أین تخرج بنفسک! إنک ترید عدوا کلبا، فقال: إنی أبادر بجہاد العدو موت العباس، إنکم لو قد فقدتم العباس لانتقض بکم الشر کما ینتقض أول الحبل(تاریخ الأمم والملوک للطبری: 248/2 ) یعنی عدی بن سہل سے روایت ہے- وہ کہتے ہیں کہ جب اہلِ شام نے فلسطین والوں کے خلاف عمر سے مدد طلب کی تو آپ نے (مدینہ میں) علی کو اپنا جانشین بنایا اور ان کی مدد کے لیے روانہ ہوئے- علی نے کہا: آپ خود کہاں جارہے ہیں، آپ ایک سخت دشمن کا قصد کررہے ہیں- عمر نے کہا کہ میں عباس کی موت سے پہلے جلد دشمن سے جہاد کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اگر تم نے عباس کو کھو دیا تو شر تمھارے درمیان اُسی طرح پھیل جائے گا جس طرح رسی کی پہلی گرہ کھل جاتی ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس روایت کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ حضرت عمر نے اِس معاملے میں حضرت عباس بن عبد المطلب کا حوالہ کیوں دیا- غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ حضرت عمر فاروق کی ایک اجتہادی رائے تھی- ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ وہ اہلِ بیتِ رسول کو خصوصی اہمیت دیتے تھے-مثلاً انھوں نے اپنے دورِ خلافت میں اہلِ بیت کا وظیفہ دوسروں سے زیادہ مقرر کیا- قحط کے زمانے میں انھوں نے حضرت عباس کا واسطہ دے کر اللہ تعالی سے بارش کی دعا کی، وغیرہ-

حضرت عمر فاروق کی یہ رائے بلاشبہ ان کی ذاتی رائے تھی- مزید یہ کہ یہ خاتم النبیین کے بارے میں منصوبہ الہی کا کم تر اندازہ (under estimation)کے ہم معنی تھا- قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل ;کاتعلق براہِ راست منصوبۂ الہی سے تھا، نہ کہ اہلِ بیت سے-چنانچہ قرآن میں اِ س سلسلے میں مختلف آیتیں آئی ہیں، اِس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (61:8)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عباس بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے- ان کی وفات 32 ہجری (653ء) میں ہوئی- تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد اعداءِ اسلام کی طرف سے مسلسل مخالفانہ واقعات پیش آتے رہے جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے- لیکن اِن مخالفانہ سرگرمیوں کے باوجود اسلام اپنی اصل حالت پر قائم ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے خود اسلام کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہلِ بیت کا احترام اپنی جگہ مسلَّم ہے، لیکن تاریخ میں اللہ کی منصوبہ بندی ہرگز کسی شخص یا خاندان کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ برتر انسانی مصالح کی بنیاد پر ہوتی ہے- خاتم النبیین کے ظہور کے بعد اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ خدا کا دین ابدی طورپر قائم ہوجائے- قرآن وسنت کا متن محفوظ ہوجائے- دین کا ایک مستند ماڈل وجود میں آجائے- قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے یہ ممکن ہوجائے کہ جو شخص ہدایت الہی کو جاننا چاہے، وہ بلا اشتباہ اُس کو جان سکے-

یہ تاریخ کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تھا- اِس منصوبے کو اس طرح مکمل ہونا تھاکہ انسان کی آزادی برقرار رہے اور دین کی حفاظت کا مقصد بھی پوری طرح حاصل ہوجائے- دوسرے الفاظ میں یہ کہ اعدا (مخالفین) کی سرگرمیوں کو آزادانہ طورپر باقی رکھتے ہوئے دین کے بارے میں اللہ کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا- یہ واقعہ منصوبہ خداوندی کے مطابق، پوری طرح انجام پایا-

یہ خدا کے منصوبے کا کم تر اندازہ ہوگاکہ اس کی تکمیل کے لیے کسی فرد یا خاندان کی موجودگی کو ضروری سمجھا جائے- فرد یا خاندان کے لیے اللہ کا قانون الگ ہے اور اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اللہ کا قانون الگ- دونوں کو ایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھا جاسکتا- (26 مارچ 2014)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content