ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہومان لا یشبعان: منہوم فی العلم لا یشبع منہ،منہوم فی الدنیا لا یشبع منہا( المستدرک للحاکم، رقم الحدیث: 312 ) یعنی دو قسم کے حریص ہیں جو کبھی آسودہ نہیں ہوتے— ایک علم کا حریص جو کبھی اُس سے آسودہ نہیں ہوتا، اور دوسرا دنیا کا حریص جو کبھی اس سے آسودہ نہیں ہوتا-
’منہوم‘ کا مطلب حریص (greedy) ہے، اور علم سے مراد علمِ معرفت ہے- اِس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح طالب دنیا کبھی دنیا کے معاملے میں آسودہ نہیں ہوتا، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اس کو حاصل کرلے- یہی معاملہ طالب علم ومعرفت کا ہے جو آدمی حقیقی معنوں میں علم ومعرفت کا طالب ہو، وہ کبھی اُس سے آسودہ نہیں ہوگا، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اس کو حاصل کرلے-
تاہم دونوں قسم کی طلب میں ایک فرق ہے- طالب دنیا خواہ کتنا ہی زیادہ دنیا کی چیزیں اکھٹا کرلے، اس کو کبھی ذہنی سکون (peace of mind) حاصل نہیں ہوسکتا- کیوں کہ انسان کے اندر فطری طورپر جو طلب رکھی گئی ہے، وہ معرفتِ خداوندی کی طلب ہے- جو آدمی اپنی اِس طلب کو حصولِ دنیا میں لگاتاہے، وہ اپنی فطری طلب کا غلط استعمال کرتا ہے- اِس کے برعکس، جو آدمی اپنی فطری طلب کو حصولِ علم ومعرفت میں لگائے، وہ اپنی فطری طلب کا صحیح استعمال کرتا ہے- اِس لیے عدم قناعت (discontent) کے باوجود اس کو ہمیشہ ایک اعلی قسم کا ذہنی اور روحانی سکون (intellectual satisfaction) حاصل رہتاہے-
بہ اعتبارِ فطرت جو چیز انسان کا مطلوب نہ ہو، وہ خواہ کم ملے یا زیادہ، ہر حال میں انسان کی فطرت اس سے غیر مطمئن رہے گی- اِس کے برعکس، جو چیز انسان کی فطری طلب ہو، وہ انسان کو کم ملے تب بھی وہ اس کے لیے اطمینان کا ذریعہ بنے گی اور اگر زیادہ ملے تب بھی وہ اس کے لیے اطمینان کا ذریعہ ثابت ہوگی- (9 اپریل 2014)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔