قدیم عراق کا سلجوقی حکمراں ملک شاہ (وفات: 1092ء) کا ایک واقعہ ہے- ایک دن ملک شاہ گھوڑے پر سوار ہو کر ایک پل سے گزر رہا تھا - اس کے سامنے ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگئی- اس کے لڑکے کو ملک شاہ کے کسی سپاہی نے بیگار کے طورپر پکڑ لیا تھا- بوڑھی عورت نے سلطان کو مخاطب کرتے ہوئے اس سے فریاد کی اور کہا کہ تمھارا ایک سپاہی میرے لڑکے کو بلاوجہ پکڑ لے گیا ہے، سلطان نے کہا کہ تم دربار میں استغاثہ پیش کرو- بوڑھی عور ت نے کہا کہ ملک شاہ! میرا فیصلہ تم کو اِسی وقت اور اِسی پل پر کرنا ہوگا، یا پھر کل اُس پل (پل صراط) پر فیصلہ ہوگا- بوڑھی عورت کی یہ بات سن کر سلطان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور اس نے اُسی وقت اس کی فریاد رسی کی- (مجلہ الشارق، اعظم گڑھ، مارچ، اپریل 2014)
آخرت کا عقیدہ بلا شبہہ تمام دوسرے عقائد سے زیادہ بڑا انقلابی عقیدہ ہے- جس آدمی کو آخرت کی دریافت ہوجائے، وہ اِس عقیدے کی دریافت کے بعد ویسا نہیں رہے گا جیسا کہ وہ اِس عقیدے کی دریافت سے پہلے تھا- آخرت کی دریافت کا واقعہ اس کے لیے ایک بھونچال بن جائے گا- اِس دریافت کے لازمی نتیجے کے طورپر اس کی سوچ بدل جائے گی، اس کا مزاج بدل جائے گا، اس کے بولنے کا انداز بدل جائے گا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک بدل جائے گا، غرض، زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جائے گا-
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ایک ایسا معاشرہ تیار کیا جائے، جس کے افراد آخرت کے عقیدے پر زندہ یقین رکھتے ہوں، تو ایسے معاشرے کے ہر فرد کے پاس ایک ایسی طاقت ہوگی جو بظاہر دکھائی نہیں دے گی، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ایک ناقابلِ تسخیر طاقت ہوگی- ایسے معاشرے میں کسی آدمی کو آخرت کی عدالت کی یاد دلانا اُس کے لیے گن اور بم سے زیادہ موثر ہوگا- آخرت کا عقیدہ ایک کمزور آدمی کو بھی سب سے بڑی طاقت کا مالک بنا دیتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔