قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے:یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ښ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ (30:7) یعنی وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے بے خبر ہیں-
یہ واقعہ کیسے پیش آتا ہے کہ انسان آخرت سے غافل ہوجاتا ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتاہے- اُس کا ہر تجربہ بتاتا ہے کہ وہ آخرت کے سوا ایک اور دنیا کے اندر ہے- اس کے تمام تعلقات اِسی معلوم دنیا کے ساتھ ہوتے ہیں- صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک اس کی پوری زندگی اِسی دنیا کے اندر گزرتی ہے- اِس طرح وہ موجودہ دنیا کے ساتھ اتنا زیادہ مانوس ہوجاتا ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بظاہر جو کچھ ہے، وہی کُل دنیا ہے، اِس کے آگے اور کچھ نہیں، حتی کے وہ لوگ جو رسمی عقیدے کے طورپر آخرت کومانتے ہیں، وہ بھی عملاً پوری طرح اِس کا مصداق ہوتے ہیں-
ایسی حالت میں آخرت پر زندہ یقین صرف اُس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) پیدا کرے، یعنی دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے الگ ہو کر سوچنا، جسمانی اعتبار سے بظاہر اِسی دنیا میں ہونا، لیکن سوچ کے اعتبار سے آخرت کی دنیا میں پہنچ جانا- یہی تجریدی فکر کا طریقہ واحد طریقہ ہے جو کسی آدمی کو آخرت کی یاد میں جینے والا بنا سکتا ہے- یہی آخرت رخی سوچ وہ چیز ہے جس سے آدمی کے اندر حقیقی معنوں میں ربانی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے- اِس کے سوا کوئی اور طریقہ ربانی شخصیت کی تعمیر کا نہیں-
ربانی انسان بننے کی شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ’النفس المطمئنة‘ (complex free soul) بنائے(89:27)- ایسے ہی انسان کو اللہ کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور یہ صرف اللہ کی توفیق ہے جو کسی انسان کو ربانی انسان بناتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔