Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2014
Al-Risala September 2014

توکل کی حقیقت

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ الطلاق میں توکل کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ (65:3) یعنی جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اُس کے لیے کافی ہے-

Qur'anQuotes the Qur'an

توکل علی اللہ اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم ہے- مگر توکل علی اللہ کیا ہے، یہ بظاہر ایک مبہم بات نظر آتی ہے- اِس سلسلے میں ایک حدیث کے مطالعے سے اِس معاملے کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے- حدیث کی کتابوں میں ایک ر وایت اِن الفاظ میں آئی ہے: عن عمر بن الخطاب قال: سمعتُ رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لو أنکم توکلّون على اللہ حق توکّلہ، لرزقکم کما یرزق الطیر، تغدوا خماصا وتروح بطانا (الترمذی، رقم الحدیث:2344) یعنی عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تم کو اُسی طرح رزق دے گا جس طرح وہ چڑیا کو رزق دیتا ہے- چڑیا خالی پیٹ نکلتی ہے اور بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں توکل کے ساتھ ’’حقِ توکلہ‘‘ کا اضافہ ہے- حقِ توکل سے مراد شرائطِ توکل ہے- اِس کی وضاحت چڑیا کی مثال سے ہوتی ہے- چڑیا ایسا نہیں کرتی کہ وہ بھروسہ کرتے ہوئے اپنے گھونسلے میں بیٹھی رہے، بلکہ چڑیا ایسا کرتی ہے کہ وہ سوچتی ہے- وہ منصوبہ بناتی ہے- وہ اپنی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اپنے پروں سے اڑتی ہے- اِس طرح وہ اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فطری طورپر اُس کا رزق موجود ہو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کا مطلب یہ ہے کہ چڑیا جب اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرتی ہے، اپنی عقل اور سمجھ سے بھر پور طور پر کام لیتے ہوئے مبنی بر فطرت منصوبہ بناتی ہے اور اس کے لیے اپنی حاصل شدہ توانائی خرچ کرتی ہے، تو اُس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا سے اُس کو وہ رزق ملے جو خالق نے اُس کے لیے مقدر کیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content