قرآن کی سورہ الطلاق میں توکل کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ (65:3) یعنی جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اُس کے لیے کافی ہے-
توکل علی اللہ اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم ہے- مگر توکل علی اللہ کیا ہے، یہ بظاہر ایک مبہم بات نظر آتی ہے- اِس سلسلے میں ایک حدیث کے مطالعے سے اِس معاملے کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے- حدیث کی کتابوں میں ایک ر وایت اِن الفاظ میں آئی ہے: عن عمر بن الخطاب قال: سمعتُ رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لو أنکم توکلّون على اللہ حق توکّلہ، لرزقکم کما یرزق الطیر، تغدوا خماصا وتروح بطانا (الترمذی، رقم الحدیث:2344) یعنی عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تم کو اُسی طرح رزق دے گا جس طرح وہ چڑیا کو رزق دیتا ہے- چڑیا خالی پیٹ نکلتی ہے اور بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے-
حدیث میں توکل کے ساتھ ’’حقِ توکلہ‘‘ کا اضافہ ہے- حقِ توکل سے مراد شرائطِ توکل ہے- اِس کی وضاحت چڑیا کی مثال سے ہوتی ہے- چڑیا ایسا نہیں کرتی کہ وہ بھروسہ کرتے ہوئے اپنے گھونسلے میں بیٹھی رہے، بلکہ چڑیا ایسا کرتی ہے کہ وہ سوچتی ہے- وہ منصوبہ بناتی ہے- وہ اپنی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اپنے پروں سے اڑتی ہے- اِس طرح وہ اُس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فطری طورپر اُس کا رزق موجود ہو-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ چڑیا جب اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرتی ہے، اپنی عقل اور سمجھ سے بھر پور طور پر کام لیتے ہوئے مبنی بر فطرت منصوبہ بناتی ہے اور اس کے لیے اپنی حاصل شدہ توانائی خرچ کرتی ہے، تو اُس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا سے اُس کو وہ رزق ملے جو خالق نے اُس کے لیے مقدر کیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔