قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے انحراف کا طریقہ اختیار کیا- اِس کے بعد خدا اور ابلیس کے درمیان ایک مکالمہ ہوا- اِس مکالمے کے دوران ابلیس نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی: قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ(15:39) یعنی ابلیس نے کہا کہ اے میرے رب، تو نے مجھے بہکایا- قرآن کی اِس آیت میں إغوا کا لفظ ہے- إغوا کا مطلب ہے بہکانا (to mislead, to misguide)- ابلیس نے خدا کی نسبت سے جو بات کہی، وہ بلاشبہہ ایک جھوٹا الزام تھا، وہ کوئی ثابت شدہ دلیل نہ تھی-
اِس مثال سے ابلیس یا شیطان کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اختلاف کے وقت اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے دلیل نہ دینا، بلکہ فریقِ ثانی پر جھوٹ باندھنا اور اُس پر الزام لگانا- اِس طریقے کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور وہ یہ اعتراف بھی نہیں کرنا چاہتا کہ فریقِ ثانی کا موقف صحیح ہے اور اس کا اپنا موقف غلط- اِس لیے وہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے- وہ الزام تراشی (allegation)کا طریقہ اختیار کرکے غلط طورپر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کی مخالفت درست ہے-
یہ طریقہ بلا شبہہ شیطان کا طریقہ ہے- جو لوگ ایسا کریں، وہ قرآن کے الفاظ میں، شیطان کے بھائی (إخوان الشیاطین) قرار پائیںگے- جب بھی آپ کو کسی سے اختلاف ہو تو آپ کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ مسلّمہ دلائل کے ذریعے اپنے موقف کو واضح کریں-
اِس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ دلیل سے اپنے موقف کو ثابت نہ کرسکیں اور جھوٹے الزام لگا کر فریقِ ثانی کو بدنام کریں تو یہ ایک بے حد خطرناک پوزیشن ہے- ایسا کرنے کی صورت میں شدید اندیشہ ہے کہ آپ اللہ کے یہاں شیطان کے بھائی قرار پائیں اور اللہ کی رحمتوں سے آپ کو محروم کر دیا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔