Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2014
Al-Risala September 2014

دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے: مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ۭ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (3:67) یعنی ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی، بلکہ وہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا-

quoted sourceQuoted from another author or source

قرآن کی اِس آیت کا مقصد حضرت ابراہیم کی براءت نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد یہ بتانا نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی یا مشرک نہ تھے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہودی، نصرانی یا مشرک، تینوں گروہ جو حضرت ابراہیم کو اپنے اکابر میں شمار کرتے تھے اور یہ کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں، اُن کا ایسا سمجھنا ہرگز درست نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اپنے دورِ زوال میں انھوں نے یہ کیا کہ خود ساختہ طورپر اپنے مذہب کا ایک ماڈل بنا لیا۔ وہ درحقیقت اپنے خود ساختہ مذہبی ماڈل پر قائم تھے، لیکن غلط طور پر وہ اس کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کیے ہوئے تھے۔ اِس طرح غلط انتساب کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ جس مذہب پر ہیں، وہ وہی مذہب ہے جو اپنے زمانے میں حضرت ابراہیم کا مذہب تھا-

کسی امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو اس کے اندر ہمیشہ یہی نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں- اِس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں- موجودہ زمانے میں مسلم امت کا بھی یہی حال ہوا ہے- انھوں نے خدا کے دین کا ایک خود ساختہ ایڈیشن تیار کیا ہواہے-

یہ ماڈل ایک قومی ماڈل ہے، نہ کہ پیغمبرانہ ماڈل- صرفلفظی انتساب کے ذریعے وہ اِس ماڈل کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں، حالاں کہ اُن کے اِس قومی ماڈل کا پیغمبر کے ماڈل سے کوئی تعلق نہیں- کسی امت کے اندر بعد کے زمانے میں یہ مزاج اپنی قومی روش کی تبریر (justification) کی بنا پر پیدا ہوتا ہے- وہ اِس لیے پیدا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی قومی روش کو عین پیغمبرانہ روش ثابت کرسکیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content