شاکلہ کا مسئلہ کیا ہے- اس کے بارے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: قل کل یعمل علی شاکلتہ، فربکم أعلم بمن ہو أہدی سبیلا(17:84)یعنی کہو کہ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے پر عمل کررہا ہے، اب تمھارا رب ہی جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پرہے-
شاکلہ کے لفظی معنی طریقہ کے ہیں- شاکلہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں مائنڈ سٹ (mindset) کہا جاتا ہے- آیت کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے ہر انسان کا ایک شاکلہ (mindset) بن جاتا ہے- وہ اسی کے مطابق سوچتا ہے اور اسی کے مطابق عمل کرتا ہے- اب سوال یہ ہے کہ کس کا شاکلہ صحیح شاکلہ ہے- اس کوجانچنے کی مستند صورت یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کی بیان کردہ گائڈ لائن (guide line) کو معلوم کیا جائے اور اس گائڈلائن کو معیار (criterion) بنا کر اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے کہ کس کا شاکلہ درست ہے اور کس کا شاکلہ درست نہیں-
انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے شاکلہ کو درست شاکلہ بنائے- یہ فائدہ گہرے تدبر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے- گہرا تدبر آدمی کو ایک طرف درست معلومات دیتا ہے اور دوسری طرف وہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرسکے- اِس طرح شاکلہ کی تصحیح یا شاکلہ سازی کا ایک لمبا عمل شروع ہوتا ہے- اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے شخصی شاکلہ کو خدائی شاکلہ کے مطابق بنائے- اِس عمل کو ایک لفظ میں، تعمیرِ شاکلہ کہاجاسکتا ہے- تعمیر ِ شاکلہ کے بغیر آدمی کے اندر صحیح سوچ (right thinking)نہیں آتی اور جس آدمی کے اندر صحیح سوچ نہ ہو، وہ واقعات کا صحیح تجزیہ نہیں کرسکے گا- وہ اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی میں ناکام رہے گا- حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اپنی زندگی کا صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے شاکلہ کو درست شاکلہ بنائے- وہ حالات سے بنے ہوئے شاکلہ پر نہ ٹھہرے، بلکہ بے لاگ غور وفکر کے ذریعے اپنے اندر صحیح تفکیر (right thinking)کی صلاحیت پیدا کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔