Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2013
Al-Risala September 2013

قابلِ کار انسان

Urdu · 2 min read

دنیا میں بے شمار لوگ ہیں- زمین کا ہر گوشہ انسانوں سے بھرا ہوا ہے- مگر دنیا میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے قابل کار انسان (competent person) -

مغل حکمراں اورنگ زیب عالم گیر (وفات: 1727) کا واقعہ ہے- ایک بار انھوںنے نماز پڑھی - نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے- وہ ہاتھ اٹھائے ہوئے خاموش دعا کرتے رہے- اُس وقت اورنگ زیب کے پیچھے ان کے وزیر سعد اللہ خان کھڑے ہوئے تھے- اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اِس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے- اورنگ زیب اِس کو سن کر کچھ دیر خاموش رہے- اس کے بعد گہرے تاثر کے ساتھ کہا: سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ، میں ایک آدمی چاہتا ہوں)-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اورنگ زیب کا یہ قول بتاتا ہے کہ وہ اصل حقیقت سے صرف ففٹی پرسنٹ واقف تھے- اِس معاملے میں اصل بات یہ نہیں تھی کہ اورنگ کے پاس کوئی ’’مرد‘‘ نہیں تھا- اصل بات یہ تھی کہ اورنگ زیب نے مرد بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی- اورنگ زیب نے اپنی ساری عمر مملکت کی توسیع میں صرف کردی- واقعات بتاتے ہیں کہ قابلِ کار انسان کی اہمیت کو نہ تو انھوں نے سمجھا اور نہ اس کو تیار کرنے کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی کام کیا-

یہی حال تقریباً تمام اداروں اور تنظیموں کا ہے- ہر ادارے اور تنظیم کو یہ شکایت ہے کہ اس کے پاس افرادِ کار نہیں، مگر کسی کو یہ خبر نہیں کہ اصل غلطی کہاں ہے- اصل غلطی یہ ہے کہ تمام لوگ توسیع (expansion) کو کام سمجھتے ہیں، جب کہ اصل کام یہ ہے کہ استحکام (consolidation)کے لیے محنت کی جائے- اور افرادِ کار ہمیشہ استحکام پسندی کے ماحول میں بنتے ہیں، نہ کہ توسیع پسندی کے ماحول میں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content