دنیا میں بے شمار لوگ ہیں- زمین کا ہر گوشہ انسانوں سے بھرا ہوا ہے- مگر دنیا میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے قابل کار انسان (competent person) -
مغل حکمراں اورنگ زیب عالم گیر (وفات: 1727) کا واقعہ ہے- ایک بار انھوںنے نماز پڑھی - نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے- وہ ہاتھ اٹھائے ہوئے خاموش دعا کرتے رہے- اُس وقت اورنگ زیب کے پیچھے ان کے وزیر سعد اللہ خان کھڑے ہوئے تھے- اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اِس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے- اورنگ زیب اِس کو سن کر کچھ دیر خاموش رہے- اس کے بعد گہرے تاثر کے ساتھ کہا: سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ، میں ایک آدمی چاہتا ہوں)-
اورنگ زیب کا یہ قول بتاتا ہے کہ وہ اصل حقیقت سے صرف ففٹی پرسنٹ واقف تھے- اِس معاملے میں اصل بات یہ نہیں تھی کہ اورنگ کے پاس کوئی ’’مرد‘‘ نہیں تھا- اصل بات یہ تھی کہ اورنگ زیب نے مرد بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی- اورنگ زیب نے اپنی ساری عمر مملکت کی توسیع میں صرف کردی- واقعات بتاتے ہیں کہ قابلِ کار انسان کی اہمیت کو نہ تو انھوں نے سمجھا اور نہ اس کو تیار کرنے کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی کام کیا-
یہی حال تقریباً تمام اداروں اور تنظیموں کا ہے- ہر ادارے اور تنظیم کو یہ شکایت ہے کہ اس کے پاس افرادِ کار نہیں، مگر کسی کو یہ خبر نہیں کہ اصل غلطی کہاں ہے- اصل غلطی یہ ہے کہ تمام لوگ توسیع (expansion) کو کام سمجھتے ہیں، جب کہ اصل کام یہ ہے کہ استحکام (consolidation)کے لیے محنت کی جائے- اور افرادِ کار ہمیشہ استحکام پسندی کے ماحول میں بنتے ہیں، نہ کہ توسیع پسندی کے ماحول میں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔