مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی کتاب ’’آزادیٔ ہند‘‘ (India Wins Freedom) میں 1947 کا ایک واقعہ لکھا ہے- آزادی کے بعد انڈیا میں جو پہلی حکومت بنی، اُس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن (Lord Mountbatten) گورنر جنرل تھے اور سردار ولّبھ بھائی پٹیل ہوم منسٹر تھے- سردار پٹیل کے حکم پر پولس نے دہلی کے مسلمانوں کے گھروں سے ’’ہتھیار‘‘ برآمد کئے- اِن ہتھیاروں کو کیبنٹ روم کے چیمبر کی ایک میز پر رکھا گیا- سردار پٹیل نے حکومت کے ذمے داروں کو دعوت دی کہ وہ چیمبر میں آکر اِن ہتھیاروں کو دیکھیں جو کہ سردار پٹیل کے دعوے کے مطابق، مسلمانوں نے اِس لیے جمع کئے تھے کہ وہ دلّی سے ہندوؤں اور سکھوں کا خاتمہ کرسکیں- مولانا آزاد (وفات: 1958) لکھتے ہیں کہ جب ہم لوگ چیمبر کے اندر داخل ہوئے تو وہاں میز پر کچھ معمولی چیزیں رکھی ہوئی تھیں- مثلاً باورچی خانے کی چھری، لوہے کے ٹکڑے، وغیرہ- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک چھری اپنے ہاتھ میں اٹھائی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ — اُن لوگوں کا فوجی نظریہ بڑا عجیب ہوگا جن لوگوں نے یہ سامان اکھٹا کرکے سمجھا کہ دہلی کے شہر پر اِس کے ذریعے قبضہ کیا جاسکتا ہے:
Those who had collected these materials seemed to have a wonderful idea to military tactics if they thought that the city of Delhi could be captured with them. (p. 233)
زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نئے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں- نئے مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی نوعیت کو سمجھا جائے- مسئلے کی نوعیت کو سمجھے بغیر اُس کے حل کے لیے چھلانگ لگانا ہمیشہ اپنے نتیجہ (result) کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوتا ہے، اُس کی وجہ ایک لفظ میں صرف یہ ہوتی ہے— ناقص منصوبہ بندی کے ذریعے ایک حقیقی مسئلے کو حل کرنا- دانش مندی کا تقاضا ہے کہ آدمی پہلے بے لاگ جائزہ لے کرمسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھے اور پھر نتیجہ خیز منصوبہ بندی کے ذریعے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔