Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala September 2013
Al-Risala September 2013

دین اور شریعت

Urdu · 5 min read

دین اور شریعت بظاہر یکساں طورپر اسلام کا حصہ ہیں، مگر دونوں کو یکساں طورپر برابر کا حصہ سمجھنا درست نہیں- قرآن میں واضح طورپر دونوںکےدرمیان فرق کیاگیاہے- یہ فرق ایک حقیقت پر مبنی ہے- اِس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سےاسلام کے بارے میں غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں-

قرآن میں بتایا گیاہے کہ ’’الدّین‘‘ تمام نبیوں کے درمیان ہمیشہ ایک رہا ہے- الدین کے معاملے میں تمام انبیا کی تعلیمات کے درمیان کوئی فرق نہیں (42:13)- دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیاہےکہ شریعت کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- قرآن کے مطابق ، مختلف امتوں کو مختلف شریعتیں دی گئیں: لکل جعلنا منکم شرعةً ومنہاجاً (5:48) -

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں یہ سوال ہے کہ دین اور شریعت میں فرق کیوں-دین اور شریعت دونوں جب خدا کی طرف سے ہیں تو بظاہر اُن کے درمیان فرق نہ ہونا چاہیے- اِ س کا جواب یہ ہے کہ دین (بنیادی تعلیمات) کا تعلق حقیقتِ واقعہ سےہے، اور شریعت (قانون) کا تعلق زمانی حالات سے- حقیقتِ واقعہ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی، اِس لیے جس چیز کا تعلق حقیقتِ واقعہ سے ہو، وہ ہمیشہ اور ہر حال میں یکساں رہے گی- لیکن زمانی حالات کا تعلق انسانی سماج سے ہے- انسانی سماج میں تغیر ہوتا رہتاہے، اِس لیے یہ ضروری ہے کہ شریعت میں زمانے کی رعایت ہو- اگر ایسا نہ کیا جائے تو شریعت اور حالات میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے گا اور اصل مقصد حاصل نہ ہوسکے گا-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ (وفات: 633ء) نے نبوت یا شریکِ نبوت ہونے کا دعوی کیا- اس نے اپنے دو سفیروں کو مدینہ بھیجا- انھوں نے مسیلمہ کی طرف سے آپ کو یہ پیغام دیا کہ آپ مسیلمہ کی نبوت کو تسلیم کرلیں- پیغمبر اسلام نے اِن سفیروں سے پوچھا کہ اِس معاملے میں خود تمھارا کیا خیال ہے- انھوں نے کہا کہ اِس معاملے میں ہم مسیلمہ کے ساتھ ہیں- اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: لولا أن الرسل لا تقتل لضربتُ أعناقکمما ( مسند احمد 3/487) یعنی اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جاتے تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس واقعے سے ایک اصول اخذ ہوتاہے، وہ یہ کہ حقوقِ انسانی (human rights) کے معاملے میں اسلام کا اصول بھی وہی ہوگاجو بقیہ دنیا کا متفقہ اصول ہوگا- مسلّمہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں اسلام بین اقوامی اصولوں (international norms) کا پابند ہوگا- موجودہ زمانے کی نسبت سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اقوامِ متحدہ میں مختلف قوموں نے جو حقوقِ انسانی کا منشور (universal declaration of human rights) متفقہ طورپر منظور کیا ہے، وہی عملاً اسلام کا بھی اصول ہے-

قدیم زمانے میں انسانی حقوق کے معاملے میں مختلف قسم کے فرق ہوتے تھے- مثلاً اپنے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون اور دوسرے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون، وغیرہ- اِس قسم کے تمام فرق موجودہ زمانے میں اصولاً ختم کردئے گئے ہیں- اب عالمی سطح پر یہ مان لیا گیاہے کہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب ایک ہی قانون کے ماتحت ہوں گے- ایسی حالت میں موجودہ زمانے میں اسلام کا قانون بھی وہی ہوگا جو بقیہ دنیا کا قانون ہے-

حقوقِ انسانی (human rights) کا تعلق دین سے نہیں ہے، بلکہ شریعت سے ہے- جس طرح پچھلے زمانے میں انسانی حالات کے اعتبار سے، مختلف شریعتیں دی گئی ہیں، اِسی طرح موجودہ زمانے میں اگر انسانی حالات بدل گئے ہیں تو شریعت میں بھی اس کے مطابق تبدیلی عین جائز ہوگی- اِس معاملے میں قدیم وجدید کے درمیان صرف یہ فرق ہوگا کہ قدیم زمانے میں شریعت میں یہ تبدیلی پیغمبر کے ذریعے ہوتی تھی اور اب موجودہ زمانے میں شریعت کی یہ تبدیلی علما کے اجتہاد کے ذریعے انجام پائے گی-قدیم فقہ کے تحت حقوقِ انسانی کے معاملے میں ایک قانونی نظام بنایا گیا تھا- اِس قانونی نظام کو عام طورپر شریعتِ اسلامی کا اٹل حصہ سمجھا جاتاہے، مگر ایسا سمجھنا درست نہیں- حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس قسم کے فقہی قوانین اُسی طرح قابلِ تغیر ہیں جس طرح قرآن کے بیان کے مطابق، شریعتیں قابلِ تغیر ہوا کرتی ہیں- خود فقہا نے اِس اصول کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان-مثلاً اِسی اصول کی بنا پر موجودہ زمانے میں جزیہ کا حکم ساقط ہوجائے گا اور ہر مذہبی گروہ کے اوپر بلا امتیاز ایک ہی قسم کا ٹیکس نافذ کیا جائے گا- اِسی طرح قدیم فقہی تقسیم کے مطابق، دارالاسلام اور دار الحرب کا فرق ختم کردیا جائے گا اور تمام ممالک یکساں قسم کے ملکی قوانین کے تابع قرار پائیں گے، وغیرہ-

اسلام میں دین اور شریعت کا فرق کوئی سادہ فرق نہیں، یہ فرق ایک اہم حکمت پر مبنی ہے- وہ حکمت یہ ہے کہ اگر دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے تو اسلام کا وہ اصل نشانہ ہی پورا نہ ہوسکے گا جو کہ اسلام کا اصل مقصود ہے- دین اور شریعت کے درمیان فرق کی حکمت یہی ہے کہ اسلام کا اصل مقصد فوت نہ ہونے پائے- اسلام کا اصل مقصد کسی قسم کے قانون کا نفاذ نہیں ہے، بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر اسلام کا اصل نشانہ ہے- اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں، اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے- اسلام کا پورا نظام اِسی حکمت کے تحت ترتیب دیاگیاہے-

اصل یہ ہے کہ انسانی سماج کے حالات بدلتے رہتے ہیں- ہر دور کے انسان کچھ رواج اور قانون میں اِس طرح کنڈیشنڈ (conditioned) ہوجاتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف سوچ نہیں سکتے- اِن رواجوں اور اِن قوانین کے خلاف لڑنا عملاً پورے سماج سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتاہے- اِس طرح سماج کے اندر امن کا وہ معتدل ماحول ختم ہوجاتا ہے جس میں کسی انسان کو اپنی شخصیت کی مطلوب تعمیر کا موقع مل سکے- یہی حکمت ہے جس کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ مقرر کیا گیاکہ زمانے کے قانونی ڈھانچے کو بزور بدلنے کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ اِس معاملے میں، موجود حالات سے عدم تعرض کے طریقے کو اختیار کیا جائے، تاکہ اسلام کا اصل نشانہ، دعوت اور تربیت اور تزکیہ، کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے- اِس معاملے میں، اسلام کے اصول کو ایک لفظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ — دین کے معاملے میں، آئڈیل ازم، اور سماجی قانون کے معاملے میں اسٹیٹس کوازم-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content