’’اہلِ سنت والجماعت‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ اصطلاح قرآن یا حدیث میں کہیں موجود نہیں ہے- یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ اصطلاح کب بنی اور کس نے بنائی- کسی مستند کتاب میں اس کی واضح تعریف (definition) نہیں ملتی- یہ اصطلاح جتنا زیادہ مشہور ہے، اتنا ہی زیادہ وہ غیر واضح بھی ہے-
’’اہلِ سنت والجماعت‘‘ کی محفوظ تشریح یہ ہوسکتی ہے کہ یہ اصطلاح دو مختلف روایتوں سے ماخوذ ہے- پہلی روایت وہ ہے جس میں علیکم بسنتی (سنن أبی داود، رقم الحدیث: 3993 ) کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت وہ ہے جس میں علیکم بالجماعة (مسند أحمد، رقم الحدیث: 22541 ) کے الفاظ آئے ہیں- اِن روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مخاطب کرتے ہوئے دو الگ الگ نصیحت کی- آپ نے فرمایا کہ تم میری سنت کو لازم پکڑو او ریہ کہ تم ہمیشہ جماعت کو لازم پکڑو-
’’اہلِ سنت والجماعت‘‘ کی اصطلاح میں اگرچہ دونوں تقاضوں کو واؤ عطف کے ذریعے ایک کردیاگیاہے، لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں الفاظ دو مختلف تقاضوں کو بتاتے ہیں- علیکم بسنتی سے مراد انفرادی اتباعِ سنت ہے اور علیکم بالجماعة سے مراد یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جماعت (اکثریت) کا ساتھ دیا جائے-اہلِ سنت والجماعت کے اِن دو طرفہ تقاضوں میں دوسرا فرق یہ ہے کہ علیکم بسنّتی سے مراد نظری اتباع ہے اور علیکم بالجماعة سے مراد عملی اتباع- نظری اتباع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اصولی اور اعتقادی اعتبار سے، جس بات کو درست سمجھے، اپنی ذات کی نسبت سے اپنی انفرادی زندگی میں وہ اُس پر پوری طرح قائم ہوجائے- یہ دین کا وہ پہلو ہےجس پر ایک فرد کی نجات کا انحصا رہے- اِس اعتبار سے، علیکم بسنتی کا لفظ ہر مومن کے انفرادی دینی فریضے کو بتا رہاہے، جب کہ علیکم بالجماعة کی اہمیت عملی (practical)سبب سے ہے، نہ کہ اعتقادی سبب سے-
اسلام کا خطاب اصلاً فرد سے ہے- حدیث میں آیا ہے کہ : إنما الأعمال بالنیات (صحیح البخاری ، رقم الحدیث: 1) یعنی عمل کا دارومدار نیت پر ہے- نیت (intention) ایک انفرادی چیز ہے-نیت کا تحقق ایک فرد کے اندر ہوتا ہے- ہر فر د کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پوری دیانت (honesty) کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے- اِس معاملے میں کسی فرد کے لیے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں- ذاتی دین داری کے معاملے میں، کسی فرد سے، معیار سے کم تر کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی-
لیکن اجتماعی زندگی کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- اجتماعی زندگی میں معیاری عمل ممکن نہیں- انفرادی زندگی میں اگر غیر مصالحانہ رویہ (uncompromising attitude) مطلوب ہے تو اجتماعی زندگی میں اِس کے برعکس مصالحانہ رویہ (compromising attitude) ایک مطلوب چیز بن جاتا ہے-اجتماعی زندگی میں مصالحانہ رویے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اجتماعی معاملے میں غیر مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے تو اِس سے عملاً خیر کے بجائے شر پیداہوگا، جیساکہ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا: الخلاف شر(البیہقی، رقم الحدیث:5004) یعنی عملی معاملے میں اختلافی روش اختیار کرنا بہ اعتبار نتیجہ شر کا موجب ہوتا ہے-
اہلِ سنت والجماعت کوئی اعتقادی کلمہ نہیں، وہ زیادہ سے زیادہ ایک حکمت کی بات ہے- یہ اصطلاح بتاتی ہے کہ ایک شخص کو محفوظ طورپر دینی زندگی کس طرح گزارنا چاہئے- وہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے معاملے میں آخری حد تک معیار پر قائم رہے، وہ سنتِ رسول کو اپنا ماڈل بنائے- لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کی بات ہے، اس میں وہ عملی (practical) بن جائے- وہ عملی تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اکثریت کے ساتھ شامل رہے- اِسی بات کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ آدمی کو اپنے ذاتی معاملے میں آئڈیلسٹ (idealist) ہونا چاہئے اور اجتماعی معاملے میں پریگمیٹک (pragmatic) - اہلِ سنت والجماعت کی اصطلاح کوئی اعتقادی اصطلاح نہیں، وہ قرآن وسنت کی کسی متعین تعلیم پر مبنی نہیں، وہ صرف عمومی تجربے پر مبنی ہے- اِس کا تعلق نہ عقیدے سے ہے اور نہ نجات سے- وہ صرف ایک کنوینینٹ اصطلاح (convenient term) ہے جو بعد کے زمانے میں رائج ہوئی- (20جولائی 2013)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔