اسلام اور عقل ایک قدیم موضوع ہے- اِس موضوع پر بہت سی چھوٹی اور بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں- مسلمانوں کے علمی ذخیرے میں اِس سلسلے میں جو کتابیں موجود ہیں، اُن میں حسب ذیل چار کتابیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں:
1- قواعد الأحکام فی إصلاح الأنام (دو جلدیں)عز الدین بن عبد السلام (وفات: 1262ء)
2- إعلام الموقعین (چار جلدیں) ابن القیم الجوزیہ (وفات: 1350ء)
3- الموافقات فی أصول الشریعة (چار جلدیں) ابو اسحاق الشاطبی (وفات: 1388ء)
4- حجة اللہ البالغة (دو جلدیں) شاہ ولی اللہ الدہلوی (وفات: 1763ء)
یہ چاروں کتابیں اپنے موضوع پر بلا شبہہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں- تاہم ان میں ایک مشترک کمی یہ ہے کہ وہ سب جدید دورِ عقل (modern age of reason)سے پہلے لکھی گئی ہیں- قدیم زمانے میں عقلی غور وفکر مبنی بر قیاس ہوتا تھا، موجودہ زمانے میں عقلی غور وفکر مبنی برسائنس ہوتا ہے- اِس طرح اب تعقل کا فریم ورک بدل گیا ہے- اب اسلامی عقلیات وہی ہے جو سائنسی فریم ورک کی بنیاد پر تیار کی جائے-
عقل (reason) کیا ہے- علمی تعریف کے مطابق، عقل اُس ذہنی صلاحیت کا نام ہے جس کے مقدمات سے نتائج اخذ کیے جائیں- پچھلے زمانے میں یہ مقدمات قیاسی ہوا کرتے تھے- اب ہم سائنسی مقدمات (scientific premises) کے دور میں ہیں- آج کی اسلامی عقلیات وہ ہوگی جس میں سائنسی مقدمات کے ذریعے نتائج اخذ کیے گئے ہوں-اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورہ البقرہ میں قانونِ شہادت کو بتاتے ہوئے دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیاگیا ہے (2:282)-
قدیم زمانے میں اِس فرق کا سبب یہ سمجھا جاتا تھا کہ مرد کا تعلق صنفِ قوی سے ہے اور عورت کا تعلق صنفِ ضعیف سے- مگر موجودہ زمانے میں جدید تحقیقات نے ہم کویہ موقع دے دیا ہے کہ ہم اِس فرق کی توجیہہ خالص سائنسی بنیاد پر بیان کر سکیں-(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، اپریل 2006، صفحہ: 7-9 )
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔