Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala September 2013
Al-Risala September 2013

اتباعِ سُبُل

Urdu · 5 min read

قرآن کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی صراطِ مستقیم پر قائم ہو، اور دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو اتباعِ سبل کہاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ (6:154) یعنی یہی میری سیدھی شاہ راہ ہے، پس اِسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کردیں گے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں صراطِ مستقیم سے مراد قرآن کی تعلیمات کا وہ صاف اور واضح مفہوم ہے جس کو کسی تاویل کے بغیر ایک انسان سمجھ سکتا ہے- اتباعِ سبل سے مراد یہ ہے کہ دور از کار تاویلات کے ذریعے موشگافیاں کی جائیں اور آیات کے نئے معانی نکال کر اُن کو وہ اہمیت دے دی جائے جو کہ اصل دین ِ خداوندی میں نہیں ہے- یہ طریقہ دراصل غلو کی ایک قسم ہے-یہ غلو لوگوں کو ہدایت کے راستے سے ہٹا دیتاہے- چند مثالوں سے اِس مسئلے کی وضاحت ہوگی-

پہلی صدی ہجری میں خوارج کا ظہور ہوا- انھوں نے غلو کرکے دین میں نئے نئے  مسئلے بنائے-مثلاً قرآن کی سادہ تعلیمات کے مطابق، توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتاہے، لیکن خوارج نےاِس میں خود ساختہ بحثیں نکالیں اور یہ عقیدہ بنا لیا کہ گناہِ کبیرہ کی توبہ نہیں ہے- اِس مسئلے پر انھوں نے اتنی زیادہ متشددانہ بحثیں کیں کہ مسلمانوں میں خارجی فرقہ کے نام سے ایک غالی فرقہ وجود میں آگیا- خارجیوں کا یہ طریقہ بلاشبہہ اتباع سبل کی ایک مثال ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی طرح تیسری صدی ہجری میں معتزلہ نےدین میں موشگافیاں کرکے نئے نئے اعتقادی مسئلے نکالے- مثلاً قرآن کے بارے میں سادہ اور فطری عقیدہ یہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، لیکن معتزلہ نے خود ساختہ موشگافی (hairsplitting)کرکے یہ نیا سوال کھڑا کیا کہ قرآن مخلوق ہے یا غیرمخلوق- اِس سوال نے اُس زمانے میں اتنی شدت اختیار کی کہ اِس پر دو متحارب گروہ بن گئے- یہ اتباعِ سبل کی ایک مہلک مثال تھی- اِسی طرح عباسی دور میں فقہ نے جو صورت اختیار کی اور جس کے نتیجے میں آخر کار، امت کے اندر جامد فرقے بن گئے، یہ معاملہ بھی اِسی اتباع سبل کی ایک مثال ہے-

مسائلِ دین میں فقہی اختلاف اِس لیے پیداہوا کہ صحابہ کی روایتوں میں فرق پایا گیا- اِس فرق کی توجیہ فقہا نے اِس طرح کی کہ فنی بحثیں کرکے ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا- لیکن چوں کہ دونوں مسلکوں کے حق میں صحابہ کی روایتیں موجود تھیں، اس لیے امام شافعی کو یہ کہنا پڑا کہ: رأیی صواب یحتمل الخطأ، ورأی غیرنا خطأ یحتمل الصواب- یہ طریقہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے، اتباعِ سبل کی ایک مثال ہے- اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امتِ واحدہ امتِ متفرقہ میں تبدیل ہوگئی- ابتدائی صورت میں یہ اختلاف، تنوع (diversity) کے ہم معنی تھا، لیکن فقہا کے خود اپنے بنائےہوئے اصول (الحق لا یتعدد) کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ ہر گروہ کے اندر تشدد پسندی آگئی، ہرگروہ صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی طرح بعد کے زمانے کے صوفیا نے غیر اسلامی تصورات سے متاثر ہو کر وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ اسلام میں داخل کیا- یہ بلاشبہہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم سے انحراف تھا- قرآن کے بتائے ہوئے تصور کے مطابق، صحیح عقیدہ وہ ہے جو توحید (monotheism)کے تصور پر قائم ہے، یعنی خدا ایک علاحدہ ہستی ہے اور مخلوقات ہر اعتبار سے اُس سے الگ ہیں- وحدتِ وجود کے تصور کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے، وہ تمام تر فلسفیانہ قسم کے مذہبی تصور پر قائم ہے جو اسلام سے باہر خارجی دنیا میں پیدا ہوئے- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہاة (9:30) کہاگیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بعد کو شیخ احمد سرہندی( وفات: 1624) نے بظاہر اِس کے رد میں ایک دوسرا تصور پیش کیا جس کو وحدتِ شہود کہاجاتا ہے- وحدتِ وجود کی تشریح کے لیے صوفیا نے جو لفظ استعمال کیا، وہ ’’ہمہ اوست‘‘ کی اصطلاح ہے، یعنی سب کچھ وہی ہے- اِس کے مقابلے میں شیخ احمد سرہندی نے وحدتِ شہود کا جو تصور پیش کیا، اس کے لیے انھوں نے ’’ہمہ از اوست‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، یعنی سب کچھ اُسی سے ہے- مگر وحدتِ شہود کی اصطلاح ایک مبہم اصطلاح ہے، اس سے اصل حقیقت منقح ہو کر واضح نہیں ہوتی- صحیح یہ ہے کہ وحدتِ وجود اور وحدتِ شہود دونوں اصطلاحوں کو ترک کردیا جائے اور قرآن کے اسلوب میں یہ کہا جائے کہ اِس معاملے میں صحیح اصطلاح توحید کی اصطلاح ہے، یعنی خالق مکمل طورپر الگ ہے اور مخلوق مکمل طورپر الگ- دونوں کے درمیان تخلیق کی نسبت ہے، نہ کہ اشتراک کی نسبت- اس معاملے میں نئی اصطلاح وضع کرنا خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم سے ہٹنے کے ہم معنی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی طرح اِس معاملے کی ایک مثال وہ لوگ ہیں جو خلافت کے انعقاد کو امت کا فرضِ اول قرار دیتے ہیں- اِس کے نتیجے میں امت کے اندر تشدد کا ایک جنگل اگ آیا ہے- اِن حضرات کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ نے رسول اللہ کی تدفین پر خلافت کے انعقاد کو مقدم قرار دیا- مگر یہ استدلال سر تا سر بے بنیاد ہے- مذکورہ معاملے میں صحابہ کا تعامل صرف یہ بتاتا ہے کہ جب امارت یا خلافت کا ادارہ عملاً قائم ہو، اُس وقت ایک امیر کی وفات کے بعد دوسرے امیر کے  انتخاب میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے، تاکہ قائم شدہ نظم کسی رخنہ کے بغیر برقرار رہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہاں تک امت کے فرضِ منصبی کا سوال ہے تو وہ صرف ایک ہے اور وہ بلاشبہ پرامن دعوت الی اللہ ہے- جہاں تک خلافت یا امارت کا معاملہ ہے، تو وہ حسب ضرورت ایک عملی تقاضا ہے، وہ مطلق معنوں میں امت کا ابدی مشن نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content